تک
64 Misre
- بجاے غنچہ و گل ہے ہجوم خار و خس یاں تک
- شورش باطن سے یاں تک مجھ کو غفلت ہے کہ آہ
- آیا نہ بیابان طلب گام زباں تک
- آج کی شب چشم کو کب تک پریدن منع ہے
- اے بال اضطراب کہاں تک فسردگی
- خدایا دل کہاں تک دن بصد رنج و تعب کاٹے
- اثر میں یاں تک اے دست دعا دخل تصرف کر
- آئندہ سال تک جو گرفتار رہ گیا
- وہ دل سوزاں کہ کل تک شمع ماتم خانہ تھا
- آجا لب بام کوئی کب تک
- یہ رات بھر کا ہے ہنگامہ صبح ہونے تک
- لے زمیں سے آسماں تک فرش تھیں بے تابیاں
- یاں زمیں سے آسماں تک سوختن کا باب تھا
- ہے مشق وفا جانتے ہیں لغزش پا تک
- آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک
- کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک
- دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہوتے تک
- دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہوتے تک
- خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہوتے تک
- میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہوتے تک
- گرمیٔ بزم ہے اک رقص شرر ہوتے تک
- شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہوتے تک
- سات دن ہم پہ بھی بھاری ہیں سحر ہوتے تک
- یاں تک مٹے کہ آپ ہم اپنی قسم ہوئے
- جب تک کہ نہ دیکھا تھا قد یار کا عالم
- جب تک دہان زخم نہ پیدا کرے کوئی
- کب تک خیال طرۂ لیلا کرے کوئی
- سینہ کا داغ ہے وہ نالہ کہ لب تک نہ گیا
- دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی
- دل میں ذوق وصل و یاد یار تک باقی نہیں
- ہے جوش گل بہار میں یاں تک کہ ہر طرف
- درد دل لکھوں کب تک جاؤں ان کو دکھلا دوں
- اب تک وہ جانتا ہے کہ میرے ہی پاس ہے
- یاں زمیں سے آسماں تک سوختن کا باب تھا
- لے زمیں سے آسماں تک فرش تھیں بیتابیاں
- مشہد عاشق سے کوسوں تک جو اگتی ہے حنا
- شوخیٔ رنگ حنا خون وفا سے کب تک
- لب تک آتا ہے جو ایسا ہی رسا ہوتا ہے
- مجھ تک کب ان کی بزم میں آتا تھا دور جام
- کہاں تک روؤں اس کے خیمے کے پیچھے قیامت ہے
- عدم تک بے وفا چرچا ہے تیری بے وفائی کا
- ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند
- ہجوم غم سے یاں تک سرنگونی مجھ کو حاصل ہے
- بہا ہے یاں تک اشکوں میں غبار کلفت خاطر
- غرض اب تک خیال گرمیٔ رفتار قاتل ہے
- کہاں تک اے سراپا ناز کیا کیا
- تیرے ہی جلوہ کا ہے یہ دھوکا کہ آج تک
- کوئی واں سے نہ آ سکے یاں تک
- ورزش قصہ کہن کب تک
- داستان شہ دکن کب تک
- چرخ تک دھوم ہے کس دھوم سے آیا سہرا
- غم شبیر سے ہو سینہ یہاں تک لبریز
- کہ جہاں تک چلے اس سے قدم اور مجھ سے جبیں
- زباں تک آ کے ہوئی اور استوار گرہ
- ادھر نہ ہوگی توجہ حضور کی جب تک
- ہو ابد تک رسائیٔ انجام
- یاں زمیں پر نظر جہاں تک جائے
- یاں تک انصاف نوازی کہ اگر ریزۂ سنگ
- ہوتی ہے تراویح سے فرصت کب تک
- نظارہ سوز ہے یاں تک ہر ایک ذرہ خاک
- مدتوں تک دیا ہے آب حیات
- سات دن ہم پہ بھی بھاری ہیں سحر ہونے تک
- تم سلامت رہو قیامت تک
- سبز ہو جب تک اسے کہیے گیاہ