تپش
63 Misre
- چھوڑے نہ چشم میں تپش دل نشان اشک
- ہے مساس دست افسوس آتش انگیز تپش
- کہ ضبط تپش سے شرر کار ہیں ہم
- صورت دیبا تپش سے میری غرق خوں ہے آج
- بیرون دل نہ تھی تپش انجمن ہنوز
- میں ہوں سراب یک تپش آموختن ہنوز
- غافل تپش مجنوں محمل کش لیلی ہے
- پرواز تپش رنگی گلزار ہمہ تنگی
- دیکھ تری خوے گرم دل بہ تپش رام ہے
- در تپش آباد شوق سرمہ صدا نام ہے
- تپش تو کیا نہ ہوئی مشق پرفشانی بھی
- بے دلوں سے ہے تپش جوں خواہش آب از سراب
- اسدؔ جس شوق سے ذرے تپش فرسا ہوں روزن میں
- عرق ریز تپش ہیں موج کے مانند زنجیریں
- سمجھتا ہوں تپش کو الفت قاتل کی تاثیریں
- بے تابی دل تپش انگیز یک طرف
- یک پر زدن تپش میں ہے کار قفس تمام
- دل گرم تپش قاصد ہے پیغام تسلی کا
- کہ جو اسدؔ تپش نبض آرزو جانے
- بے دماغ تپش رشک ہوں اے جلوۂ حسن
- میں ہوں سراب یک تپش آموختن ہنوز
- فرصت تپش و حوصلۂ نشوونما ہیچ
- ذوق راحت اگر احرام تپش ہو جوں شمع
- دیتا ہوں کشتگاں کو سخن سے سر تپش
- داد خواہ تپش و مہر خموشی بر لب
- تپش آئنہ پرواز تمنا لائی
- وسعت جیب جنون تپش دل مت پوچھ
- گرمیٔ برق تپش سے زہرٔ دل آب تھا
- درد اظہار تپش کسوتی گل معلوم
- بے دماغ تپش و عرض دو عالم فریاد
- ریگ روان و ہر تپش درس تسلی شعاع
- قاصد تپش نالہ ہے یارب خبر آوے
- جوں قمری بسمل تپش آہنگ نکالوں
- بلبل تصویر ہوں بے تاب اظہار تپش
- دل شب آئینہ دار تپش کوکب تھا
- ضعف جنوں کو وقت تپش در بھی دور تھا
- درس تپش ہے برق کو اب جس کے نام سے
- حیرت ہجوم لذت غلطانیٔ تپش
- ضعف جنوں کو وقت تپش در بھی دور تھا
- درس تپش ہے برق کو اب جس کے نام سے
- وصل بر رنگ تپش کسوت رسوائی ہے
- تپش سے میری وقف کشمکش ہر تار بستر ہے
- تپش شوق نے ہر ذرہ پہ اک دل باندھا
- تپش آئینہ پرواز تمنا لائی
- تپش دل شکستہ پئے عبرت آگہی ہے
- ہوس غزل سرائی تپش فسانہ خوانی
- ہمہ یک نفس تپش سے تب و تاب ہجر مت پوچھ
- بے دماغ تپش رشک ہوں اے جلوۂ حسن
- بیرون دل نہ تھی تپش انجمن ہنوز
- میں ہوں سراب یک تپش آموختن ہنوز
- ولے مجھے تپش دل مجال خواب تو دے
- نبض خس سے تپش شعلۂ سوزاں سمجھا
- چاہیے وقت تپش یک دست صد پہلو مجھے
- معزولیٔ تپش ہوئی افراط انتظار
- میں مدعا ہوں تپش نامۂ تمنا کا
- نکلتی ہے تپش میں بسملوں کی برق کی شوخی
- تپش دل نہیں بے رابطۂ خوف عظیم
- تپش دل شکستہ پئے عبرت آگہی ہے
- ہوس غزل سرائی تپش فسانہ خوانی
- ہمہ یک نفس تپش سے تب و تاب ہجر مت پوچھ
- جوش بیداد تپش سے ہوئی عریاں آخر
- یک بیاباں تپش بال شرر سے صحرا
- رفتن رنگ حنا ہے تپش بال شرار