توقع
7 Misre
جب توقع ہی اٹھ گئی غالبؔ
مجھے اس سے کیا توقع بہ زمانۂ جوانی
وگرنہ ہم تو توقع زیادہ رکھتے ہیں
لیے جاتی ہے کہیں ایک توقع غالبؔ
اب تلک تو یہ توقع ہے کہ واں ہو جائے گا
ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کی
خدا سے ہے یہ توقع کہ عہد طفلی میں
ت
All Letters