تو
392 Misre
- آئی اگر بلا تو جگہ سے ٹلے نہیں
- کعبے میں جارہا تو نہ دو طعنہ کیا کہیں
- گر ایک ادا ہو تو اسے اپنی قضا کہوں
- تو اور ایک وہ نشنیدن کہ کیا کہوں
- آپ نے مسنی الضر کہا ہے تو سہی
- یہ بھی یا حضرت ایوب گلا ہے تو سہی
- رنج طاقت سے سوا ہو تو نہ پیٹوں کیوں کر
- ذہن میں خوبی تسلیم و رضا ہے تو سہی
- نہ ملے داد مگر روز جزا ہے تو سہی
- نہ سہی لیک تمناے دوا ہے تو سہی
- نہ سہی ہم سے پر اس بت میں وفا ہے تو سہی
- کچھ نہ کچھ روز ازل تم نے لکھا ہے تو سہی
- شرۂ تیزی شمشیر قضا ہے تو سہی
- اس لب سے مل ہی جائے گا بوسہ کبھی تو ہاں
- شمع ہوں تو بزم میں جا پاؤں غالبؔ کی طرح
- میں تو دیوانہ ہوں اور ایک جہاں ہے غماز
- آپ سے وہ مرا احوال نہ پوچھے تو اسدؔ
- اور تو رکھنے کو ہم دہر میں کیا رکھتے تھے
- اگر ڈھانپے تو آنکھیں ڈھانپ ہم تصویر عریاں ہیں
- زندگی میں تو وہ محفل سے اٹھا دیتے تھے
- جہاں ساقی ہو تو باطل ہے دعویٰ ہوشیاری کا
- دزدگر ہو خانگی تو پاسباں معذور ہے
- مجھ سے مت کہ تو ہمیں کہتا تھا اپنی زندگی
- رنگ یاں بوسے سوار تو سن چالاک ہے
- آئینہ ایسے طاق پہ گم کر کہ تو نہ ہو
- یک مشت خوں ہے پر تو خور سے تمام دشت
- میرے لیے تو تیغ سیہ تاب ہو گئی
- رکھ فکر سخن میں تو معذور مجھے غالبؔ
- ہاتھ پر ہو ہاتھ تو درس تاسف ہی سہی
- یک نالہ بیٹھیے تو نیستاں اٹھائیے
- تپش تو کیا نہ ہوئی مشق پرفشانی بھی
- عجب کہ پر تو خور شمع شبنمستاں ہے
- پسینہ تو سن ہمت کا سیل خانۂ زیں ہے
- دل دے تو ہم بتا دیں مٹھی میں تیری کیا ہے
- جو تو باندھے کف پا پر حنا آئینہ موزوں ہے
- آخر اس پردے میں تو ہنستی تھی اے صبح وصال
- خوں دل میں جو میرے نہیں باقی تو پھر اس کی
- اچھا اگر نہ ہو تو مسیحا کا کیا علاج
- تو بتے بو دیجیے میخانے کی دیوار کے پاس
- وہ جلوہ کر کہ نہ میں جانوں اور نہ تو جانے
- زیادہ اس سے گرفتار ہوں کہ تو جانے
- ہے اسدؔ نقصاں میں مفت اور صاحب سرمایہ تو
- توڑا جو تو نے آئنہ تمثال دار تھا
- دیکھا تو کم ہوے پہ غم روزگار تھا
- گر نہ مٹیں یہ کوہسار آپ کو تو صدا سمجھ
- اے دل و جان خلق تو ہم کو آشنا سمجھ
- جان جائے تو بلا سے پہ کہیں دل آئے
- بادشاہی کا جہاں یہ حال ہو غالبؔ تو پھر
- نالاں ہو اسدؔ تو بھی سر راہ گزر پر
- جو تو دریاے مے ہے تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا
- چمن میں کچھ نہ چھوڑا تو نے غیر از بیضۂ قمری
- جسے تو بندگی کہتا ہے دعوا ہے خدائی کا
- نامہ بھی لکھتے ہو تو بخط غبار حیف
- پائی جگہ بھی دل میں تو ہو کر غبار حیف
- جاں لب پہ آئی تو بھی نہ شیریں ہوا دہن
- ہم کو جلدی ہے مگر تو نے قیامت ڈھیل کی
- تو کہے صحرا غبار دامن دیوانہ تھا
- معنی ہیں بہت تو لفظ تھوڑے
- جو رخت خواب ہے پرویں تو ہے پرن تکیہ
- عیاں ہے پاے حنائی برنگ پر تو خور
- کبھی تو اس سر شوریدہ کی بھی داد ملے
- واں تو میرے نالے کو بھی اعتبار نغمہ ہے
- عجز و نیاز سے تو نہ آیا وہ راہ پر
- اگر وا ہو تو دکھلادوں کہ یک عالم گلستاں ہے
- تو یک جہاں قماش ہوس جمع کر کہ میں
- تو وہ بدخو کہ تحیر کو تماشا جانے
- تو پست فطرت اور خیال بسا بلند
- تو وہ نہیں کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی
- وہ فلک رتبہ کہ بر تو سن چالاک چڑھا
- دل ہی تو ہے سیاست درباں سے ڈر گیا
- مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
- تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے
- خوں دل میں جو میرے نہیں باقی تو عجب کیا
- قتل کا میرے کیا ہے عہد تو بارے
- تو نے قسم مے کشی کی کھائی ہے غالبؔ
- یا رب ہمیں تو خواب میں بھی مت دکھائیو
- توڑا جو تو نے آئنہ تمثال دار تھا
- دیکھا تو کم ہوئے پہ غم روزگار تھا
- تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مرے آگے
- گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
- زندگی میں تو وہ محفل سے اٹھا دیتے تھے
- مجھے معلوم ہے جو تو نے میرے حق میں سوچا ہے
- تو ہو اور آپ بہ صد رنگ گلستاں ہونا
- جو ہے تجھے سر سوداۓ انتظار تو آ
- وہ آ رہا مرے ہم سایے میں تو سائے سے
- رقیب پر ہے اگر لطف تو ستم کیا ہے
- کٹے تو شب کہیں کاٹے تو سانپ کہلاوے
- نامہ بھی لکھتے ہو تو بہ خط غبار حیف
- پائی جگہ بھی دل میں تو ہو کر غبار حیف
- سائل ہوئے تو عاشق اہل کرم ہوئے
- تجھ سے تو کچھ کلام نہیں لیکن اے ندیم
- اگر پہلو تہی کیجے تو جا میری بھی خالی ہے
- دلا یہ درد و الم بھی تو مغتنم ہے کہ آخر
- مجھ کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہو
- قاتل اگر رقیب ہے تو تم گواہ ہو
- جب مے کدہ چھٹا تو پھر اب کیا جگہ کی قید
- غالبؔ بھی گر نہ ہو تو کچھ ایسا ضرر نہیں
- تو دوست کسو کا بھی ستم گر نہ ہوا تھا
- آخر کبھی تو عقدۂ دل وا کرے کوئی
- تو وہ نہیں کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی
- جب ہاتھ ٹوٹ جائیں تو پھر کیا کرے کوئی
- تو یک جہاں قماش ہوس جمع کر کہ میں
- جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے
- تو اس قد دل کش سے جو گلزار میں آوے
- دل میں نظر آتی تو ہے اک بوند لہو کی
- یاں تو کوئی سنتا نہیں فریاد کسو کی
- اتنا ہے کہ رہتی تو ہے تدبیر وضو کی
- تو فسردگی نہاں ہے بہ کمین بے زبانی
- جو گداز دل ہو مطلب تو چمن ہے سنگ جانی
- اگر آرزو ہے راحت تو عبث بہ خوں تپیدن
- جو ملی تو تلخ کامی جو ہوئی تو سرگرانی
- نہ ستم کر اب تو مجھ پر کہ وہ دن گئے کہ ہاں تھی
- لاگ ہو تو اس کو ہم سمجھیں لگاو
- جب نہ ہو کچھ بھی تو دھوکا کھائیں کیا
- شمع بجھتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہے
- جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے
- بے طلب دیں تو مزا اس میں سوا ملتا ہے
- قطرہ دریا میں جو مل جاے تو دریا ہو جائے
- ابھی تو تلخیٔ کام و دہن کی آزمائش ہے
- مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
- یہ جانتا اگر تو لٹاتا نہ گھر کو میں
- تو نے پھر کیوں کی تھی میری غم گساری ہائے ہائے
- عمر بھر کا تو نے پیمان وفا باندھا تو کیا
- عمر کو بھی تو نہیں ہے پائیداری ہائے ہائے
- گر مصیبت تھی تو غربت میں اٹھا لیتا اسدؔ
- تو ہی جب خنجر آزما نہ ہوا
- حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا
- کچھ تو پڑھیے کہ لوگ کہتے ہیں
- دیکھو تو دل فریبی انداز نقش پا
- مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے
- دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
- کوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ سمجھاویں گے کیا
- تیرا پتہ نہ پائیں تو ناچار کیا کریں
- ہو غم ہی جاں گداز تو غم خوار کیا کریں
- دل بھی اگر گیا تو وہی دل کا درد تھا
- ہوا رقیب تو ہو نامہ بر ہے کیا کہئے
- دیکھا تو ہم میں طاقت دیدار بھی نہیں
- ملنا ترا اگر نہیں آساں تو سہل ہے
- دشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں
- دیوانہ گر نہیں ہے تو ہشیار بھی نہیں
- گر حیا بھی اس کو آتی ہے تو شرما جائے ہے
- غیر کی بات بگڑ جائے تو کچھ دور نہیں
- تو تغافل میں کسی رنگ سے معذور نہیں
- بارے طبیعتوں کے تو چالاک ہو گئے
- پڑیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیماردار
- اور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو
- زخم سے گرتا تو میں پلکوں سے چنتا تھا نمک
- وگرنہ ہم تو توقع زیادہ رکھتے ہیں
- اور تو رکھنے کو ہم دہر میں کیا رکھتے تھے
- واں گیا بھی میں تو ان کی گالیوں کا کیا جواب
- رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
- یوں ہی گر روتا رہا غالبؔ تو اے اہل جہاں
- جو تو دریاۓ مے ہے تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا
- مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے
- کوئی نہیں تیرا تو مری جان خدا ہے
- آخر اے عہد شکن تو بھی پشیماں نکلا
- یہ بھی مت کہہ کہ جو کہیے تو گلہ ہوتا ہے
- تو وہ لشکر کا ترے نعل بہا ہوتا ہے
- یک نالہ بیٹھیے تو نیستاں اٹھائیے
- یا صبح دم جو دیکھیے آ کر تو بزم میں
- کچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی
- ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنے
- کچھ تو دے اے فلک ناانصاف
- گر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی
- گر اک ادا ہو تو اسے اپنی قضا کہوں
- تو اور ایک وہ نہ شنیدن کہ کیا کہوں
- شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے
- غیر سے رات کیا بنی یہ جو کہا تو دیکھیے
- اس کی تو خامشی میں بھی ہے یہی مدعا کہ یوں
- ہم تو عاشق ہیں تمہارے نام کے
- اردی جو نہ ہو تو دے نہیں ہے
- آخر تو کیا ہے اے نہیں ہے
- مرے بت خانے میں تو کعبہ میں گاڑو برہمن کو
- نہ لٹتا دن کو تو کب رات کو یوں بے خبر سوتا
- لاغر اتنا ہوں کہ گر تو بزم میں جا دے مجھے
- زلف گر بن جاؤں تو شانے میں الجھا دے مجھے
- پسینہ توسن ہمت تو سیل خانۂ زیں ہے
- ہمارا بھی تو آخر زور چلتا ہے گریباں پر
- جہاں ساقی ہو تو باطل ہے دعویٰ ہوشیاری کا
- اچھا اگر نہ ہو تو مسیحا کا کیا علاج
- محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا
- تو اور سوئے غیر نظر ہائے تیز تیز
- آخر ستم کی کچھ تو مکافات چاہیے
- تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہیے
- گو واں نہیں پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں
- تو بنے بو دیجیے میخانے کی دیوار کے پاس
- بات کچھ سر تو نہیں ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں
- ستم اتنا تو نہ کیجے کہ اٹھا بھی نہ سکوں
- لگ گئی آگ اگر گھر کو تو اندیشہ کیا
- شعلۂ دل تو نہیں ہے کہ بجھا بھی نہ سکوں
- تم نہ آؤ گے تو مرنے کی ہیں سو تدبیریں
- موت کچھ تم تو نہیں ہو کہ بلا بھی نہ سکوں
- درماندگی میں غالبؔ کچھ بن پڑے تو جانوں
- واں تو میرے نالے کو بھی اعتبار نغمہ ہے
- تو وہ بد خو کہ تحیر کو تماشا جانے
- میں بلاتا تو ہوں اس کو مگر اے جذبۂ دل
- کوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے تو چھپائے نہ بنے
- اس نزاکت کا برا ہو وہ بھلے ہیں تو کیا
- ہاتھ آویں تو انہیں ہاتھ لگائے نہ بنے
- تم کو چاہوں کہ نہ آؤ تو بلائے نہ بنے
- نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
- ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
- ہوا جب غم سے یوں بے حس تو غم کیا سر کے کٹنے کا
- نہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا
- وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا
- تو اور آرائش خم کاکل
- تو ہوا جلوہ گر مبارک ہو
- مجھ کو پوچھا تو کچھ غضب نہ ہوا
- میں غریب اور تو غریب نواز
- امتحاں اور بھی باقی ہو تو یہ بھی نہ سہی
- خار خار الم حسرت دیدار تو ہے
- جو آؤں سامنے ان کے تو مرحبا نہ کہیں
- جو جاؤں واں سے کہیں کو تو خیرباد نہیں
- کبھی جو یاد بھی آتا ہوں میں تو کہتے ہیں
- جو گل ہوں تو ہوں گلخن میں جو خس ہوں تو ہوں گلشن میں
- یوں ہو تو چارۂ غم الفت ہی کیوں نہ ہو
- واں اس کو ہول دل ہے تو یاں میں ہوں شرم سار
- ی نگاہ غلط انداز تو سم ہے ہم کو
- وہ آ کے خواب میں تسکین اضطراب تو دے
- ولے مجھے تپش دل مجال خواب تو دے
- تری طرح کوئی تیغ نگہ کو آب تو دے
- نہ دے جو بوسہ تو منہ سے کہیں جواب تو دے
- پیالہ گر نہیں دیتا نہ دے شراب تو دے
- کہا جو اس نے ذرا میرے پاؤں داب تو دے
- کبھی زمانہ مراد دل خراب تو دے
- دل تو دل وہ دماغ بھی نہ رہا
- ہے یہی بہتر کہ لوگوں میں نہ چھیڑے تو مجھے
- ہم زباں آیا نظر فکر سخن میں تو مجھے
- جسے تو بندگی کہتا ہے دعویٰ ہے خدائی کا
- کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
- یہ اگر چاہیں تو پھر کیا چاہیے
- آپ کی صورت تو دیکھا چاہیے
- دل تو ہو اچھا نہیں ہے گر دماغ
- کچھ تو اسباب تمنا چاہیے
- سرمہ تو کہوے کہ دود شعلۂ آواز ہے
- کبھی تو اس دل شوریدہ کی بھی داد ملے
- نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو
- تو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگ آستاں کیوں ہو
- کہ جب دل میں تمہیں تم ہو تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہو
- یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں
- عدو کے ہو لیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو
- نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تو غالبؔ
- کعبہ میں جا رہا تو نہ دو طعنہ کیا کہیں
- آئی اگر بلا تو جگہ سے ٹلے نہیں
- کچھ تو پیغام زبانی اور ہے
- کہتے تو ہو تم سب کہ بت غالیہ مو آئے
- اس در پہ نہیں بار تو کعبہ ہی کو ہو آئے
- کہوں جو حال تو کہتے ہو مدعا کہیے
- تمہیں کہو کہ جو تم یوں کہو تو کیا کہیے
- مجھے تو خو ہے کہ جو کچھ کہو بجا کہیے
- رہے نہ جان تو قاتل کو خوں بہا دیجے
- کٹے زبان تو خنجر کو مرحبا کہیے
- نہیں نگار کو الفت نہ ہو نگار تو ہے
- نہیں بہار کو فرصت نہ ہو بہار تو ہے
- کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں
- کہنے جاتے تو ہیں پر دیکھیے کیا کہتے ہیں
- لے تو لوں سوتے میں اس کے پاؤں کا بوسہ مگر
- سب کے دل میں ہے جگہ تیری جو تو راضی ہوا
- اب تلک تو یہ توقع ہے کہ واں ہو جائے گا
- فائدہ کیا سوچ آخر تو بھی دانا ہے اسدؔ
- یہ جانتا ہوں کہ تو اور پاسخ مکتوب
- گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیونکر ہو
- کہے سے کچھ نہ ہوا پھر کہو تو کیونکر ہو
- کہ گر نہ ہو تو کہاں جائیں ہو تو کیونکر ہو
- ادب ہے اور یہی کشمکش تو کیا کیجے
- حیا ہے اور یہی گو مگو تو کیونکر ہو
- بتوں کی ہو اگر ایسی ہی خو تو کیونکر ہو
- جو تم سے شہر میں ہوں ایک دو تو کیونکر ہو
- وہ شخص دن نہ کہے رات کو تو کیونکر ہو
- ہماری بات ہی پوچھیں نہ وہ تو کیونکر ہو
- نہ مانے دیدۂ دیدار جو تو کیونکر ہو
- وہ نیش ہو رگ جاں میں فرو تو کیونکر ہو
- فراق یار میں تسکین ہو تو کیونکر ہو
- جانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر
- بہرا ہوں میں تو چاہیئے دونا ہو التفات
- غالبؔ نہ کر حضور میں تو بار بار عرض
- گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا
- بحر گر بحر نہ ہوتا تو بیاباں ہوتا
- کہ اگر تنگ نہ ہوتا تو پریشاں ہوتا
- بعد یک عمر ورع بار تو دیتا بارے
- ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
- جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
- تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے
- شوق دیدار میں گر تو مجھے گردن مارے
- مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائے
- کبھی تو اس دل شوریدہ کی بھی داد ملے
- آخر زباں تو رکھتے ہو تم گر دہاں نہیں
- نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا
- ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا
- تو مجھے بھول گیا ہو تو پتا بتلا دوں
- بجلی اک کوند گئی آنکھوں کے آگے تو کیا
- گر بگڑ بیٹھے تو میں لائق تعزیر بھی تھا
- کرتا ہے بسکہ باغ میں تو بے حجابیاں
- دو دن بھی جو کاٹے تو قیامت تعبوں سے
- کرتے ہیں محبت تو گزرتا ہے گماں اور
- تم شہر میں ہو تو ہمیں کیا غم جب اٹھیں گے
- ہم ہیں تو ابھی راہ میں ہے سنگ گراں اور
- پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے
- رکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور
- تو مشق باز کر دل پروانہ ہے بہار
- اس لب سے مل ہی جائے گا بوسہ کبھی تو ہاں
- ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
- کبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا
- جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا
- گر چرخ بھی جل جائے تو پروا نہیں ہم کو
- نیک ہوتی مری حالت تو نہ دیتا تکلیف
- جمع ہوتی مری خاطر تو نہ کرتا تعجیل
- نہ کہوں آپ سے تو کس سے کہوں
- کچھ تو جاڑے میں چاہیے آخر
- مجھ کو دیکھو تو ہوں بقید حیات
- اس طرف کو نہیں جاتے ہیں جو جاتے ہیں تو کم
- خضر بھی یاں اگر آجائے تو لے ان کے قدم
- تو بولا انشراح جشن جمشید
- روزہ اگر نہ کھائے تو ناچار کیا کرے
- کلکتے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں
- روئے سخن کسی کی طرف ہو تو رو سیاہ
- یہ تو دیکھو کہ کیا نظر آیا
- تجھ سے جو اتنی ارادت ہے تو کس بات سے ہے
- گرچہ تو وہ ہے کہ ہنگامہ اگر گرم کرے
- ہاتھ میں تیرے رہے تو سن دولت کی عناں
- تو سکندر ہے مرا فخر ہے ملنا تیرا
- کہا یہ جلد کہ تو اس میں سوچتا کیا ہے
- ہے تو کشتی میں ولے بحر رواں ہے سہرا
- جو گداز دل ہو مطلب تو چمن ہے سنگ جانی
- اگر آرزو ہے راحت تو عبث بہ خوں تپیدن
- جو ملی تو تلخ کامی جو ہوئی تو سرگرانی
- نہ ستم کر اب تو مجھ پر کہ وہ دن گئے کہ ہاں تھی
- وصی ختم رسل تو ہے بفتواے یقیں
- وصی ختم رسل تو ہے باثبات یقیں
- تو وا کرے اس عقدے کو سو بھی بہ اشارت
- تو آب سے گر سلب کرے طاقت سیلاں
- تو آگ سے گر دفع کرے تاب شرارت
- جو یاں گنیں گے تو پاویں گے نو ہزار گرہ
- کھلے یہ گانٹھ تو البتہ دم نکل جاوے
- جس کو تو جھک کے کر رہا ہے سلام
- دو دن آیا ہے تو نظر دم صبح
- میں نے مانا کہ تو ہے حلقہ بگوش
- جانتا ہوں کہ جانتا ہے تو
- مہر تاباں کو ہو تو ہو اے ماہ
- جانتا ہوں کہ اس کے فیض سے تو
- مجھ کو کیا بانٹ دے گا تو انعام
- اب تو باندھا ہے دیر میں احرام
- کہہ چکا میں تو سب کچھ اب تو کہہ
- تو نہیں جانتا تو مجھ سے سن
- عزت جہاں گئی تو نہ ہستی رہی نہ نام
- ملک و سپہ نہ ہو تو نہ ہو کچھ ضرر نہیں
- امر جدید کا تو نہیں ہے مجھے سوال
- چاہیں اگر حضور تو مشکل نہیں یہ کام
- وہ مہرباں ہو تو انجم کہیں الٰہی شکر
- وہ خشمگیں ہو تو گردوں کہے خدا کی پناہ
- گر کہوں بھی تو کس کو آئے یقیں
- کاٹ کر پھینکیے ناخن تو با انداز ہلال
- گم کرے گوشۂ میخانہ میں گر تو دستار
- خلوت آبلہ میں گم کرے گر تو رفتار
- جس ادب گاہ میں تو آئنہ شوخی ہو
- تو وہ ساقی ہے کہ ہر موج محیط تنزیہہ
- دید تا دل اسدؔ آئینۂ یک پر تو شوق
- تو کہے بت خانہ آزر کھلا
- عصفور ہے تو مقابل باز نہ ہو
- سمجھیں تو ذرا دل میں کہ کیا کہتے ہیں
- میں تجھ سے اور مجھ سے تو پوشیدہ
- اک گرم آہ کی تو ہزاروں کے گھر جلے
- پروانے کا نہ غم ہو تو پھر کس لیے اسدؔ
- تکرار روا نہیں تو تجدید سہی
- تو پھر کہیں کہ کچھ اس سے سوا کہیں اس کو
- یزید کو تو نہ تھا اجتہاد کا پایہ
- اب تو مل جائے گی تیری ان سے سانٹھ
- اگر ہوتا تو کیا ہوتا یہ کہیے
- تو یوسف سا حسیں بکنے سر بازار آتا ہے
- دل تو ہو اچھا نہیں ہے گر دماغ
- کچھ تو اسباب تمنا چاہیے
- گر مصیبت تھی تو غربت میں اٹھا لیتا اسدؔ
- روٹھا جو بے گناہ تو بے عذر من گیا
- جو حد تقوی ادا نہ ہووے تو اپنا مذہب یہی ہے غالبؔ
- ہوس نہ رہ جائے کوئی باقی گناہ کیجے تو خوب کیجے
- مزہ تو جب ہے کہ اے آہ نارسا ہم سے
- بہت جیوں تو جیوں اور تین چار برس
- تھا تو خط پر نہ تھا جواب طلب
- جو وہ نکلے تو دل نکلے جو دل نکلے تو دم نکلے
- فارسی چھینکے کی تو آونگ جان
- سی اگر کہیے تو ہندی اس کی تیس
- گر نہ ڈر جاؤ تو دکھلاؤں تمہیں
- تو سنو کل کا سبق آ جاؤ تم
- ایسے پڑھنے کا تو میں قائل نہیں
- کیوں کہا تو نے کہ کہہ دل کا غم اس کے رو برو
- تو نے دیکھا مجھ پہ کیسی بن گئی اے راز دار
- غم نے جب گھیرا تو چاہا ہم نے یوں اے دلنواز
- تو صداے پا سے جاگا تھا جو محو خواب ناز
- ہاں فراوانی اگر کچھ ہے تو ہے آفات میں
- ہاں چھ گھنٹے کی تو ہوتی فرصت عیش و طرب
- شام سے آتے تو کیا اچھی گزرتی رات سب
- پاس میرے وہ جو آئے بھی تو بعد از نصف شب