تن
25 Misre
- میں وادی طلب میں ہوا جملہ تن غرق
- ہے تماشا گاہ سوز تازہ ہر یک عضو تن
- پرواز فنا مشکل میں عجز تن آسانی
- ہوا ہے موجب آرام جان و تن تکیہ
- اٹھائے کیوں کے یہ رنجور خستہ تن تکیہ
- ضعف سے اے گریہ کچھ باقی مرے تن میں نہیں
- خوں بھی ذوق درد سے فارغ مرے تن میں نہیں
- قد کے جھکنے کی بھی گنجائش مرے تن میں نہیں
- مرا سر رنج بالیں ہے مرا تن بار بستر ہے
- مر جاؤں نہ کیوں رشک سے جب وہ تن نازک
- ابھی اس خستہ کے نیروے تن کی آزمائش ہے
- دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں
- تن سے سوا فگار ہیں اس خستہ تن کے پاؤں
- کر گئی وابستۂ تن میری عریانی مجھے
- لے گیا تھا گور میں ذوق تن آسانی مجھے
- عشق پر عربدہ کی گوں تن رنجور نہیں
- چھوڑ کر جانا تن مجروح عاشق حیف ہے
- تن بہ بند ہوس در ندادہ رکھتے ہیں
- نہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا
- نہیں ہے زخم کوئی بخیے کے در خور مرے تن میں
- نگین نام شاہد ہے مرے ہر قطرۂ خوں تن میں
- سیہ ہو کر سویدا ہو گیا ہر قطرۂ خوں تن میں
- جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دم سماع
- وہی رونا تن و دل و جاں کا
- اس کے مضروب کے سر و تن سے