تمہیں
16 Misre
- تم ہو بت پھر تمہیں پندار خدائی کیوں ہے
- غالبؔ تمہیں کہو کہ ملے گا جواب کیا
- مارا زمانہ نے اسداللہ خاں تمہیں
- تمہیں نہیں ہے سر رشتۂ وفا کا خیال
- میں جو کہتا ہوں کہ ہم لیں گے قیامت میں تمہیں
- زنہار اگر تمہیں ہوس نائے و نوش ہے
- مجھ سے تمہیں نفرت سہی نیر سے لڑائی
- کہ جب دل میں تمہیں تم ہو تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہو
- تمہیں کہو کہ جو تم یوں کہو تو کیا کہیے
- تمہیں کہو کہ گزارا صنم پرستوں کا
- تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے
- ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ
- لیتا نہ اگر دل تمہیں دیتا کوئی دم چین
- تمہیں اور اس کو سلامت رکھے سدا اللہ
- مجھ سے پوچھو تمہیں خبر کیا ہے
- گر نہ ڈر جاؤ تو دکھلاؤں تمہیں