تمام
34 Misre
- تمام دفتر ربط مزاج درہم ہے
- بس کہ ہیں در پردہ مصروف سیہ کاری تمام
- یک مشت خوں ہے پر تو خور سے تمام دشت
- زندگی کے ہوئے ناگہ نفس چند تمام
- ہیں زوال آمادہ اجزا آفرینش کے تمام
- جس دم کہ جادہ دار ہو تار نفس تمام
- پیمایش زمین رہ عمر بس تمام
- ہے سرمہ گر درہ بہ گلوے جرس تمام
- ہیں خار راہ جوہر تیغ عسس تمام
- یک پر زدن تپش میں ہے کار قفس تمام
- مژگان چشم دام ہوئے خار و خس تمام
- اب کے بہار کا یونہی گزرا برس تمام
- حیرت اگر خرام ہے کار نگہ تمام ہے
- رند تمام ناز رہ خلق کو پارسا سمجھ
- فروغ حسن سے روشن ہے خوابگاہ تمام
- تمام اجزاے عالم صید دام چشم گریاں ہے
- ہیں زوال آمادہ اجزا آفرینش کے تمام
- کرے ہے صرف بہ ایماۓ شعلہ قصہ تمام
- دل ہوا کشمکش چارۂ زحمت میں تمام
- ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے
- تمام دفتر ربط مزاج برہم ہے
- اسدؔ اللہ خاں تمام ہوا
- دکھا کے جنبش لب ہی تمام کر ہم کو
- ہو چکیں غالبؔ بلائیں سب تمام
- عالم تمام حلقۂ دام خیال ہے
- کرتی ہے عاجزیٔ سفر سوختن تمام
- تمام دہر میں اس کے مطب کا چرچا ہے
- کہ جس میں حکمت و طب ہی کے مسئلے ہیں تمام
- کل اس کتاب کے سال تمام میں جو مجھے
- لکھا ہے نسخہ تحفہ یہی ہے سال تمام
- پھر بنا چاہتا ہے ماہ تمام
- گر نہ رکھتا ہو دست گاہ تمام
- دو رات میں تمام ہے ہنگامہ ماہ کا
- جس نے جلا کے راکھ مجھے کردیا تمام