تم
84 Misre
- کچھ نہ کچھ روز ازل تم نے لکھا ہے تو سہی
- پنبۂ میناے مے رکھ لو تم اپنے کان میں
- خوب وقت آئے تم اس عاشق بیمار کے پاس
- تم ہو بیداد سے خوش اس سے سوا اور سہی
- تم ہو بت پھر تمہیں پندار خدائی کیوں ہے
- تم خداوند ہی کہلاؤ خدا اور سہی
- تم پہ اے خاقان نام آور کھلا
- تم کرو صاحب قرانی جب تلک
- اگرچہ پھینک دیا تم نے دور سے لیکن
- ہم اور تم فلک پیر جس کو کہتے ہیں
- مانا کہ تم کہا کیے اور وہ سنا کیے
- خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہوتے تک
- تم کو بھی ہم دکھائیں کہ مجنوں نے کیا کیا
- تم کو کہیں جو غالبؔ آشفتہ سر ملے
- تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھو
- تم جانو تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو
- قاتل اگر رقیب ہے تو تم گواہ ہو
- مانا کہ تم بشر نہیں خورشید و ماہ ہو
- خوشا اقبال رنجوری عیادت کو تم آئے ہو
- کرتے ہو شکوہ کس کا تم اور بے وفائی
- رکھتے ہو تم قدم مری آنکھوں سے کیوں دریغ
- کل تم گئے کہ ہم پہ قیامت گزر گئی
- جان تم پر نثار کرتا ہوں
- تم نے کیوں سونپی ہے میرے گھر کی دربانی مجھے
- رسوائے دہر گو ہوئے آوارگی سے تم
- دیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہو گئیں
- خستگی کا تم سے کیا شکوہ کہ یہ
- تم ماہ شب چار دہم تھے مرے گھر کے
- تم کون سے تھے ایسے کھرے داد و ستد کے
- ڈالا ہے تم کو وہم نے کس پیچ و تاب میں
- واعظ نہ تم پیو نہ کسی کو پلا سکو
- خوب وقت آئے تم اس عاشق بیمار کے پاس
- تم نہ آؤ گے تو مرنے کی ہیں سو تدبیریں
- موت کچھ تم تو نہیں ہو کہ بلا بھی نہ سکوں
- کاش کے تم مرے لیے ہوتے
- تم کو بے مہری یاران وطن یاد نہیں
- نہ تم کہ چور بنے عمر جاوداں کے لیے
- تم کو چاہوں کہ نہ آؤ تو بلائے نہ بنے
- تم ان کے وعدہ کا ذکر ان سے کیوں کرو غالبؔ
- یہ کیا کہ تم کہو اور وہ کہیں کہ یاد نہیں
- تم وو نازک کہ خموشی کو فغاں کہتے ہو
- کہ جب دل میں تمہیں تم ہو تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہو
- نہ کھینچو گر تم اپنے کو کشاکش درمیاں کیوں ہو
- ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
- عدو کے ہو لیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو
- کہا تم نے کہ کیوں ہو غیر کے ملنے میں رسوائی
- شرم تم کو مگر نہیں آتی
- کہتے تو ہو تم سب کہ بت غالیہ مو آئے
- ہم نے بارہا ڈھونڈا تم نے بارہا پایا
- آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا
- تمہیں کہو کہ جو تم یوں کہو تو کیا کہیے
- نہ کہیو طعن سے پھر تم کہ ہم ستم گر ہیں
- کیا خوب تم نے غیر کو بوسہ نہیں دیا
- رکتا ہوں تم کو بے سبب آزار دیکھ کر
- الجھتے ہو تم اگر دیکھتے ہو آئینہ
- جو تم سے شہر میں ہوں ایک دو تو کیونکر ہو
- ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
- یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سے
- آخر زباں تو رکھتے ہو تم گر دہاں نہیں
- تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہ
- گو تم کو رضا جوئی اغیار ہے لیکن
- تم شہر میں ہو تو ہمیں کیا غم جب اٹھیں گے
- تم نے مجھ کو جو آبرو بخشی
- تم سلامت رہو ہزار برس
- کیا کرتے تھے تم تقریر ہم خاموش رہتے تھے
- چاہا تھا میں نے تم کو مہ چاردہ کہوں
- سچ ہے تم آفتاب ہو جس کے فروغ سے
- میری سنو کہ آج تم اس سر زمین پر
- تم رہو زندہ جاوداں آمیں
- رقعے کا جواب کیوں نہ بھیجا تم نے
- ثاقب حرکت یہ کی ہے بیجا تم نے
- غالبؔ کا پکا دیا کلیجا تم نے
- وہ دوست نبی کے اور تم ان کے دشمن
- بتو توبہ کرو تم کیا ہو جب اعتبار آتا ہے
- تم سلامت رہو قیامت تک
- زخم دل تم نے دکھایا ہے کہ جی جانے ہے
- اسم وہ ہے جس کو تم کہتے ہو نام
- اور نوشیدن کو تم پینا کہو
- تو سنو کل کا سبق آ جاؤ تم
- چھید کو تم رخنہ اور روزن کہو
- اصل بستر ہے سمجھ لو تم ذرا
- کیا ہے ارض اور مرز تم سمجھے زمیں
- اک غزل تم اور پڑھ لو والسلام
- تم جو فرماتے ہو دیکھ اے غالبؔ آشفتہ سر