تلک
22 Misre
- کل تلک تیرا بھی دل مہر و وفا کا باب تھا
- مجبوریاں تلک ہوے اے اختیار حیف
- تم کرو صاحب قرانی جب تلک
- جوں اشک جب تلک نہ رکھوں دست و پا گرو
- کل تلک تیرا بھی دل مہرو وفا کا باب تھا
- کب تلک پھیرے اسدؔ لب ہاے تفتہ پر زباں
- تاکہ میں جانوں کہ ہے اس کی رسائی واں تلک
- مجبور یاں تلک ہوئے اے اختیار حیف
- زخم کے بھرتے تلک ناخن نہ بڑھ جاویں گے کیا
- بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور کب تلک
- کیجے بیاں سرور تپ غم کہاں تلک
- واں تلک کوئی کسی حیلے سے پہنچا دے مجھے
- یاں تلک میری گرفتاری سے وہ خوش ہے کہ میں
- ہے شکستن سے بھی دل نومید یارب کب تلک
- اب تلک تو یہ توقع ہے کہ واں ہو جائے گا
- کب تلک پھیرے اسدؔ لب ہائے تفتہ پر زباں
- مژگاں تلک رسائی لخت جگر کہاں
- آگ تاپے کہاں تلک انساں
- دھوپ کھاوے کہاں تلک جاں دار
- رویا میں ہزار آنکھ سے صبح تلک
- جب تلک ہے نمود سایہ و نور
- تمثال جلوہ عرض کر اے حسن کب تلک