تغافل
44 Misre
- تغافل کمیں گاہ وحشت شناسی
- اسدؔ بزم تماشا میں تغافل پردہ داری ہے
- مبادا ہو عناں گیر تغافل لطف عام اس کا
- بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کی
- کشتی عالم بہ طوفان تغافل دے کہ ہیں
- دل دے کف تغافل ابروے یار میں
- زندان تحمل میں مہمان تغافل ہیں
- ہے کسوت عروج تغافل کمال حسن
- دل میں ہے سوداے زلف مست تغافل ہنوز
- آئنۂ امتحاں نذر تغافل اسدؔ
- کیوں نہ ہو چشم بتاں محو تغافل کیوں نہ ہو
- مشکل آساں کن یک خلق تغافل تا چند
- یار معذور تغافل ہے عزیزاں شفقتے
- حسن خود آرا کو ہے مشق تغافل ہنوز
- کمال حسن اگر موقوف انداز تغافل ہو
- تغافل آئنہ دار خموشی دل ہے
- ہے تماشا حیرت آباد تغافل ہاے شوق
- گو حوصلہ پا مرد تغافل نہیں لیکن
- کشتی عالم بہ طوفان تغافل دے کہ ہیں
- تغافل مشربی سے ناتمامی بس کہ پیدا ہے
- ہوں گرفتار کمیں گاہ تغافل کہ جہاں
- ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
- تغافل دوست ہوں میرا دماغ عجز عالی ہے
- اصطلاحات اسیران تغافل مت پوچھ
- تغافل بد گمانی بلکہ میری سخت جانی سے
- گرچہ ہے طرز تغافل پردہ دار راز عشق
- تو تغافل میں کسی رنگ سے معذور نہیں
- کرنے گئے تھے اس سے تغافل کا ہم گلہ
- کشتی عالم بہ طوفان تغافل دے کہ ہیں
- تغافل مشربی سے ناتمامی بسکہ پیدا ہے
- ہوں گرفتار کمیں گاہ تغافل کہ جہاں
- بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کی
- جان کر کیجے تغافل کہ کچھ امیدؔ بھی ہو
- ہم وہ عاجز کہ تغافل بھی ستم ہے ہم کو
- تغافل کو نہ کر مصروف تمکیں آزمائی کا
- عشق کے تغافل سے ہرزہ گرد ہے عالم
- حسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا
- کشتۂ تغافل کو خصم خوں بہا پایا
- کیوں نہ ہو چشم بتاں محو تغافل کیوں نہ ہو
- عیسیٰ طلسم حسن تغافل ہے زینہار
- درس عنوان تماشا بہ تغافل خوشتر
- تغافل ہائے تمکیں آزما کیا
- تغافل ہائے ساقی کا گلہ کیا
- تیرا انداز تغافل مرے مرنے کی دلیل