تشنۂ
14 Misre
- جگر تشنۂ آزار تسلی نہ ہوا
- تشنۂ خون دل و دیدہ ہے پیماں میرا
- زخم جگر ہے تشنۂ لب دوختن ہنوز
- اے بہ سراب حسن خلق تشنۂ سعی امتحاں
- وہ تشنۂ سرشار تمنا ہوں کہ جس کو
- تشنۂ خون تماشا جو وہ پانی مانگے
- جس قدر روح نباتی ہے جگر تشنۂ ناز
- جگر تشنۂ آزار تسلی نہ ہوا
- بلا سے گر مژۂ یار تشنۂ خوں ہے
- دل جگر تشنۂ فریاد آیا
- بات کرتے کہ میں لب تشنۂ تقریر بھی تھا
- تشنۂ خوں ہے ہر مسلماں کا
- ہر کف خاک جگر تشنۂ صد رنگ ظہور
- تشنۂ خون دو عالم ہوں بہ عرض تکرار