تسلی
20 Misre
- تماشا ئے بہار آئینہ پرداز تسلی ہے
- بے تابی یاد دوست ہم رنگ تسلی ہے
- گردش میں لا تجلی صد ساغر تسلی
- ہے بوے گل غریب تسلی گہ وطن
- جگر تشنۂ آزار تسلی نہ ہوا
- دل گرم تپش قاصد ہے پیغام تسلی کا
- اے تسلی ہوس وعدہ فریب افسوں ہے
- وہ غریب وحشت آباد تسلی ہوں جسے
- نے حسرت تسلی نے ذوق بے قراری
- ریگ روان و ہر تپش درس تسلی شعاع
- دل نا امید کیونکر بہ تسلی آشنا ہو
- دہر میں نقش وفا وجہ تسلی نہ ہوا
- گوش منت کش گلبانگ تسلی نہ ہوا
- میں نا مراد دل کی تسلی کو کیا کروں
- جگر تشنۂ آزار تسلی نہ ہوا
- نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی
- شوق گلچین گلستان تسلی نہ سہی
- غلط نہ تھا ہمیں خط پر گماں تسلی کا
- اے تسلی ہوس وعدہ فریب افسوں ہے
- دل نا امید کیونکر بہ تسلی آشنا ہو