ترے
64 Misre
- صدف کی ہے ترے نقش قدم میں کیفیت
- ترے نوکر ترے در پر اسدؔ کو ذبح کرتے ہیں
- صافی رخ سے ترے ہنگام شب
- ظاہرا کاغذ ترے خط کا غلط بردار ہے
- حیرت سے ترے جلوے کی از بس کہ ہیں بے کار
- ترے کوچے میں بنے مشاطہ واماندگی قاصد
- کاغذ سرمہ ہے جامہ ترے بیماروں کا
- کرے ہے بادہ ترے لب سے کسب رنگ فروغ
- شاید کہ مرگیا ترے رخسار دیکھ کر
- میں اور جاؤں در سے ترے بن صدا کیے
- شاید کہ مر گیا ترے رخسار دیکھ کر
- ظاہراً کاغذ ترے خط كا غلط بردار ہے
- مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا ترے پیچھے
- کہ مست ہے ترے کوچے میں ہر در و دیوار
- ترے سرو قامت سے اک قد آدم
- چھوڑا نہ رشک نے کہ ترے گھر کا نام لوں
- اے کاش جانتا نہ ترے رہگزر کو میں
- نگاہ دل سے ترے سرمہ سا نکلتی ہے
- دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں
- مستی سے ہر نگہ ترے رخ پر بکھر گئی
- ہوں ترے وعدہ نہ کرنے میں بھی راضی کہ کبھی
- ترے لرزنے سے ظاہر ہے نا توانی شمع
- ترے خیال سے روح اہتزاز کرتی ہے
- تو وہ لشکر کا ترے نعل بہا ہوتا ہے
- آستاں پر ترے مہ ناصیہ سا ہوتا ہے
- لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا
- گر نہیں نکہت گل کو ترے کوچے کی ہوس
- پروانہ ہے وکیل ترے داد خواہ کا
- گر ترے دل میں ہو خیال وصل میں شوق کا زوال
- ترے کوچے میں ہے مشاطۂ واماندگی قاصد
- ہوں در پہ ترے ناصیہ فرسا کوئی دن اور
- ترے نوکر ترے در پر اسدؔ کو ذبح کرتے ہیں
- جیب خیال بھی ترے ہاتھوں سے چاک ہے
- قسمت کھلی ترے قد و رخ سے ظہور کی
- کیا قسم ہے ترے ملنے کی کہ کھا بھی نہ سکوں
- کم نہیں جلوہ گری میں ترے کوچے سے بہشت
- غیر پھرتا ہے لیے یوں ترے خط کو کہ اگر
- ترے کوچے سے کہاں طاقت رم ہے ہم کو
- ہنس کے بولے کہ ترے سر کی قسم ہے ہم کو
- پھر ترے کوچہ کو جاتا ہے خیال
- کرے ہے بادہ ترے لب سے کسب رنگ فروغ
- ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو
- خار رہ کو ترے ہم مہر گیا کہتے ہیں
- ہے ترے تیر کا پیکان عزیز
- گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر
- بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
- کرے ہے بادہ ترے لب سے کسب رنگ فروغ
- قید میں ہے ترے وحشی کو وہی زلف کی یاد
- ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
- کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو
- ترے جواہر طرف کلہ کو کیا دیکھیں
- نسبت اک گونہ مرے دل کو ترے ہات سے ہے
- باندھنے کو جو ترے سر پہ اٹھایا سہرا
- خوش ہو اے بخت کہ ہے آج ترے سر سہرا
- ہے ترے حسن دل افروز کا زیور سہرا
- عرش چاہے ہے کہ ہو در پہ ترے خاک نشیں
- جسم اطہر کو ترے دوش پیمبر منبر
- نام نامی کو ترے ناصیۂ عرش نگیں
- آستاں پر ہے ترے جوہر آئینۂ سنگ
- ہے ترے حوصلۂ فضل پر از بس کہ یقیں
- غالبؔ کو ترے عتبۂ عالی کی زیارت
- ہم ریاضت کو ترے حوصلے سے استظہار
- خاک در کی ترے جو چشم نہ ہو آئنہ دار
- حالت ترے عاشق کی یہ اب آن بنی ہے