تری
50 Misre
- اے خیال وصل نادر ہے مے آشامی تری
- پختگی ہاے کباب دل ہوئی خامی تری
- ہے نزاکت جلوہ اے ظالم سیہ خامی تری
- باج لیتی ہے گلستاں سے گل اندامی تری
- میرے کام آئی دل مایوس ناکامی تری
- لیکن اس سے ناگوارا تر ہے بدنامی تری
- یاں نگہ آلودہ ہے دستار بادامی تری
- اے اسدؔ بیجا نہیں ہے غفلت آرامی تری
- شعلہ رخسارا تحیر سے تری رفتار کے
- شب تری تاثیر سحر شعلۂ آواز سے
- بدگماں کرتی ہے عاشق کو خود آرائی تری
- دیکھ تری خوے گرم دل بہ تپش رام ہے
- شوخی تری کہہ دیتی ہے احوال ہمارا
- کافی ہے نشانی تری چھلے کا نہ دینا
- تکلف بر طرف تجھ سے تری تصویر بہتر ہے
- جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا
- بیٹھنا اس کا وہ آ کر تری دیوار کے پاس
- چشم امید ہے روزن تری دیواروں کا
- شوخی تری کہہ دیتی ہے احوال ہمارا
- حسرت نے لا رکھا تری بزم خیال میں
- کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک
- حوران خلد میں تری صورت مگر ملے
- تری سادگی ہے غافل در دل پہ پاسبانی
- سب کو مقبول ہے دعویٰ تری یکتائی کا
- کیا ہوئی ظالم تری غفلت شعاری ہائے ہائے
- دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی
- دور چشم بد تری بزم طرب سے واہ واہ
- خو نے تری افسردہ کیا وحشت دل کو
- جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا
- دل سے مٹنا تری انگشت حنائی کا خیال
- ہے تجلی تری سامان وجود
- میری وحشت تری شہرت ہی سہی
- بے نیازی تری عادت ہی سہی
- کہ فرقت میں تری آتش برستی تھی گلستاں پر
- میں اور دکھ تری مژہ ہائے دراز کا
- بیٹھنا اس كا وو آ کر تری دیوار کے پاس
- تری طرف ہے بہ حسرت نظارۂ نرگس
- تری طرح کوئی تیغ نگہ کو آب تو دے
- ہم بھی گئے واں اور تری تقدیر کو رو آئے
- لرزے ہے موج مے تری رفتار دیکھ کر
- یاد آ گیا مجھے تری دیوار دیکھ کر
- گلشن کو تری صحبت از بس کہ خوش آئی ہے
- کہتے ہو کیا لکھا ہے تری سر نوشت میں
- تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا
- رونق بزم مہ مہر تری ذات سے ہے
- تری سادگی ہے غافل در دل پہ پاسبانی
- کس سے ممکن ہے تری مدح بغیر از واجب
- قاصر ہے ستایش میں تری میری عبارت
- آواز تری نکلے اور آواز کے ساتھ
- کھنچ کے قاتل جب تری شمشیر آدھی رہ گئی