ترا
26 Misre
- کافی ہے نشانی ترا چھلے کا نہ دینا
- غالبؔ ترا احوال سنا دیں گے ہم ان کو
- لیکن خدا کرے وہ ترا جلوہ گاہ ہو
- ہاں بھلا کر ترا بھلا ہوگا
- سبزۂ خط سے ترا کاکل سرکش نہ دبا
- ملنا ترا اگر نہیں آساں تو سہل ہے
- ترا آنا نہ تھا ظالم مگر تمہید جانے کی
- مٹ جائے گا سر گر ترا پتھر نہ گھسے گا
- اے ترا غمزہ یک قلم انگیز
- اے ترا ظلم سر بہ سر انداز
- پھر ترا وقت سفر یاد آیا
- کیوں ترا راہ گزر یاد آیا
- گھر ترا خلد میں گر یاد آیا
- واے گر میرا ترا انصاف محشر میں نہ ہو
- گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا
- یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالبؔ
- مجھ کو ڈر ہے کہ نہ چھینے ترا لمبر سہرا
- داد دیوانگی دل کہ ترا مدحت گر
- ممکن ہے کرے خضر سکندر سے ترا ذکر
- ہے نقش مریدی ترا فرمان الہی
- ہے داغ غلامی ترا توقیع امارت
- تیرا آغاز اور ترا انجام
- اے ترا لطف زندگی افزا
- اے ترا عہد فرخی فرجام
- جس چمن میں ہو ترا جلوۂ محروم نواز
- ہم عبادت کو ترا نقش قدم مہر نماز