تحیر
12 Misre
- شعلہ رخسارا تحیر سے تری رفتار کے
- مجنون دشت عشق تحیر شکار تر
- چشم تحیر آغوش مخمور ہر ادا ہے
- ہے بہ صحراے تحیر چشم قربانی جرس
- کثرت انشاے مضمون تحیر سے اسدؔ
- تحیر ہے گریباں گیر ذوق جلوہ پیرائی
- نظارہ تحیر چمنستان بقا ہیچ
- تو وہ بدخو کہ تحیر کو تماشا جانے
- بہ تحیر کدۂ فرصت آرایش وصل
- شمع سے ہے بزم انگشت تحیر در دہن
- تو وہ بد خو کہ تحیر کو تماشا جانے
- نہ تمنا نہ تماشا نہ تحیر نہ نگاہ