تجھے
32 Misre
- ہے ہے خدا نہ کردہ تجھے بے وفا کہوں
- کس جرم سے ہے چشم تجھے حسرت قبول
- تجھے ہم مفت دیویں یک جہاں چین جبیں لیکن
- آج کیوں پروا نہیں اپنے اسیروں کی تجھے
- آج کیوں پروا نہیں اپنے اسیروں کی تجھے
- کس سے اے غفلت تجھے تعبیر آگاہی ملے
- اے شمع تجھے دعوی ثابت قدمی ہے
- جو ہے تجھے سر سوداۓ انتظار تو آ
- اے مرگ ناگہاں تجھے کیا انتظار ہے
- مجھے طاقت آزمانی تجھے الفت آزمانی
- تجھے کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں
- دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
- تجھے کہ آئنہ بھی ورطۂ ملامت ہے
- یاد ہیں غالبؔ تجھے وہ دن کہ وجد ذوق میں
- ہے ہے خدا نہ کردہ تجھے بے وفا کہوں
- تجھے بہانۂ راحت ہے انتظار اے دل
- پائے افگار پہ جب سے تجھے رحم آیا ہے
- اے شوق منفعل یہ تجھے کیا خیال ہے
- کس جرم سے ہے چشم تجھے حسرت قبول
- تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
- سر پہ چڑھنا تجھے پھبتا ہے پر اے طرف کلاہ
- مجھے طاقت آزمانی تجھے الفت آزمانی
- اے عبارت تجھے کس خط سے ہے درس نیرنگ
- ہے غیب سے ہر دم تجھے صد گونہ بشارت
- گر تجھے ہے امید رحمت عام
- وارث ملک جانتے ہیں تجھے
- زور بازو میں مانتے ہیں تجھے
- سخت مشکل ہوگا سلجھانا تجھے
- قہر ہے دل ان سے الجھانا تجھے
- یہ جو محفل میں بڑھاتے ہیں تجھے
- بھول مت اس پر اڑاتے ہیں تجھے
- شوق ابھی سے ہے تجھے اشعار کا