تجھ
68 Misre
- تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
- تجھ کو اے غفلت نسب پرواے مشتاقاں کہاں
- باغ تجھ بن گل نرگس سے ڈراتا ہے مجھے
- تجھ پہ کھل جاوے کہ اس کو حسرت دیدار ہے
- ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیں
- تکلف بر طرف مل جائے گا تجھ سا رقیب آخر
- کہ قتل عاشق دلدادہ تجھ کو آساں ہے
- گداے طاقت تقریر ہے زباں تجھ سے
- کہ خامشی کو ہے پیرایۂ بیاں تجھ سے
- فسردگی میں ہے فریاد بے دلاں تجھ سے
- چراغ صبح و گل موسم خزاں تجھ سے
- حناے پاے اجل خون کشتگاں تجھ سے
- نگاہ حیرت مشاطہ خوں فشاں تجھ سے
- بہار نالہ و رنگینی فغاں تجھ سے
- امید محو تماشاے گلستاں تجھ سے
- جبین سجدہ فشاں تجھ سے آستاں تجھ سے
- وفاے حوصلہ و رنج امتحاں تجھ سے
- خرام تجھ سے صبا تجھ سے گلستاں تجھ سے
- تکلف بر طرف تجھ سے تری تصویر بہتر ہے
- دیکھ کر تجھ کو چمن بس کہ نمو کرتا ہے
- آتش افروزی یک شعلۂ ایما تجھ سے
- دیوانگی ہے تجھ کو درس خرام دینا
- تو وہ نہیں کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی
- ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے
- تجھ پہ کھل جاوے کہ اس کو حسرت دیدار ہے
- باغ تجھ بن گل نرگس سے ڈراتا ہے مجھے
- تجھ سے تو کچھ کلام نہیں لیکن اے ندیم
- مشکل کہ تجھ سے راہ سخن وا کرے کوئی
- تو وہ نہیں کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی
- تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
- کچھ تجھ کو مزا بھی مرے آزار میں آوے
- کہتے ہیں ہم تجھ کو منہ دکھلائیں کیا
- درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے
- کیوں مری غم خوارگی کا تجھ کو آیا تھا خیال
- یعنی تجھ سے تھی اسے نا سازگاری ہائے ہائے
- ختم ہے الفت کی تجھ پر پردہ داری ہائے ہائے
- دل نہیں تجھ کو دکھاتا ورنہ داغوں کی بہار
- جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
- مجھ کو ارزانی رہے تجھ کو مبارک ہوجیو
- ستم کش مصلحت سے ہوں کہ خوباں تجھ پہ عاشق ہیں
- تکلف بر طرف مل جائے گا تجھ سا رقیب آخر
- تجھ سے قسمت میں مری صورت قفل ابجد
- تا کہ تجھ پر کھلے اعجاز ہوائے صیقل
- غیر کو تجھ سے محبت ہی سہی
- پر تجھ سی کوئی شئے نہیں ہے
- دیکھ کر تجھ کو چمن بسکہ نمو کرتا ہے
- ہے مجھ کو تجھ سے تذکرۂ غیر کا گلہ
- ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو
- ایک بیکسی تجھ کو عالم آشنا پایا
- تجھ کو جس قدر ڈھونڈا الفت آزما پایا
- گر تجھ کو ہے یقین اجابت دعا نہ مانگ
- گردش ساغر صد جلوۂ رنگیں تجھ سے
- آتش افروزی یک شعلۂ ایما تجھ سے
- تجھ سے عالم پہ کھلا رابطۂ قرب کلیم
- تجھ سے دنیا میں بچھا مائدہ بذل خلیل
- خدا نے تجھ کو عطا کی ہے گوہر افشانی
- تجھ سے جو اتنی ارادت ہے تو کس بات سے ہے
- اے نگہ تجھ کو کہے کس نقطے میں مشق تسکیں
- تجھ میں اور غیر میں نسبت ہے و لیکن بہ تضاد
- تجھ کو شرف مہر جہاں تاب مبارک
- تجھ کو کیا پایہ روشناسی کا
- جو کہ بخشے گا تجھ کو فر فروغ
- تجھ کو کس نے کہا کہ ہو بدنام
- میں تجھ سے اور مجھ سے تو پوشیدہ
- ایک دن تجھ کو لڑا دیں گے کہیں
- میں بھولا نہیں تجھ کو اے میری جاں
- کس لیے تجھ سے چھپاؤں ہاں وہ پرسوں شب کی بات
- ہم نہ تجھ کو منع کرتے تھے گیا کیوں اس کے گھر