تجلی
10 Misre
گردش میں لا تجلی صد ساغر تسلی
صد تجلی کدہ ہے صرف جبین غربت
پروانۂ تجلی شمع ظہور تھا
پروانۂ تجلی شمع ظہور تھا
ہے تجلی تری سامان وجود
منظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کی
گرنی تھی ہم پہ برق تجلی نہ طور پر
رشک نظارہ تھی یک برق تجلی کہ ہنوز
ہم اور فسردن اے تجلی افسوس
ہو تجلی برق کی صورت میں ہے یہ بھی غضب
ت
All Letters