تب
23 Misre
- گر تب آسودۂ مژگاں تصرف وا کرے
- نقش پا میں ہے تب گرمی رفتار ہنوز
- تب سے ہے یاں دہن یار کا مذکور ہنوز
- تب خجلت نے یہ نبض رگ گل میں حرارت کی
- وہ تب عشق تمنا ہے کہ پھر صورت شمع
- دل ناسوختہ آتش کدۂ صد تب تھا
- تب ناز گراں مایگی اشک بجا ہے
- تب چاک گریباں کا مزا ہے دل نالاں
- شر و شور آرزو سے تب و تاب عجز بہتر
- ہوس فروختن ہا تب و تاب سوختن ہا
- ہمہ یک نفس تپش سے تب و تاب ہجر مت پوچھ
- رگ و پے میں جب اترے زہر غم تب دیکھیے کیا ہو
- نقش پا میں ہے تب گرمی رفتار ہنوز
- تب اماں ہجر میں دی برد لیالی نے مجھے
- تب بنا ہو گا اس انداز کا گز بھر سہرا
- شر و شور آرزو سے تب و تاب عجز بہتر
- ہوس فروختن ہا تب و تاب سوختن ہا
- ہمہ یک نفس تپش سے تب و تاب ہجر مت پوچھ
- تب کہا ہے بہ طرز استفہام
- یعنی تب عشق شعلہ پرور ہے آج
- جب خزاں آئے تب ہو اس کی بہار
- تب ہوا ہے ثمر فشاں یہ نخل
- خشک ہو جاتی ہے تب کہتے ہیں کاہ