تازہ
15 Misre
- ہے تماشا گاہ سوز تازہ ہر یک عضو تن
- رکھتا ہے داغ تازہ کا یاں انتظار داغ
- شاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچھا ہے
- پھر ہوا ہے تازہ سودائے غزل خوانی مجھے
- داغ گرم کوشش ایجاد داغ تازہ تھا
- اسدؔ ہر جا سخن نے طرح باغ تازہ ڈالی ہے
- اے تازہ واردان بساط ہوائے دل
- رنگ شہرت نہ دیا تازہ خیالی نے مجھے
- ہر داغ تازہ یک دل داغ انتظار ہے
- تازہ نہیں ہے نشۂ فکر سخن مجھے
- دلکش و تازہ و شاداب و وسیع و خرم
- تازہ کرتا ہے دل کو تازہ سخن
- ران پر داغ تازہ دے کے وہیں
- تازہ ہے ریشۂ نارنج صفت روے شرار
- مطلع تازہ ہوا موجۂ کیفیت دل