تار
70 Misre
- جوں صبح چاک جیب مجھے تار و پود تھا
- ہر تار زلف کو نگہ سرمہ سا کہوں
- تار و پود فرش محفل پنبۂ مینا کرے
- کہ تار جادۂ رہ رشتۂ دامان صحرا ہے
- کہ رشتہ تار اشک دیدۂ سوزن نہ ہوجاوے
- سر تار نظر ہے رشتۂ تسبیح کوکب ہا
- معاف پیچ و تاب کشمکش ہر تار بستر ہے
- تار شمع آہنگ مضراب پر پروانہ تھا
- ہے نفس تار شعاع آفتاب آئینے پر
- بس کہ ہریک موے زلف افشاں سے ہے تار شعاع
- اسدؔ تار نفس ہے ناگزیر عقدہ پیرائی
- آتی نہیں نیند اے شب تار
- رشتۂ تسبیح تار جادۂ منزل ہوا
- جادۂ ہر دشت تار دامن قاتل ہوا
- کہ تار جادۂ سر منزل نازک خیالی ہے
- رگ گل جادۂ تار نگہ سے حد موافق ہے
- بطرز گل رگ جاں مجھ کو تار داماں ہے
- سراغ خلوت شب ہاے تار رکھتے ہیں
- وقف غرق عقدہ ہاے متصل تار نفس
- جس دم کہ جادہ دار ہو تار نفس تمام
- نغمہ ہا وابستۂ یک عقدۂ تار نفس
- کہ تار جادہ سے ہے لجہ ریگ رواں خالی
- پر پروانہ تار شمع پر مضراب ہوجاوے
- مضراب تار ہاے گلوے بریدہ ہوں
- مطرب دل نے مرے تار نفس سے غالبؔ
- ناخن غم یاں سر تار نفس مضراب تھا
- یاں ہجوم اشک میں تار نگہ نایاب تھا
- سنبلی خواں ہے بذوق تار گیسوے دراز
- پنبۂ گوش حریفاں پود و تار نغمہ ہے
- واں اسدؔ تار شعاع مہر خط جام ہے
- وا کیا ہرگز نہ میرا عقدۂ تار نفس
- کہ تار جادۂ رہ رشتۂ گوہر نہیں ہوتا
- تار نگاہ سوزن مینا رشتۂ خط جام کیا
- آنکھیں پتھرائی ہیں نامحسوس ہے تار نگاہ
- ابھرا ہوا نقاب میں ہے ان کے ایک تار
- تپش سے میری وقف کشمکش ہر تار بستر ہے
- شعاع آفتاب صبح محشر تار بستر ہے
- کہ بیتابی سے ہر یک تار بستر خار بستر ہے
- معاف پیچ و تاب کشمکش ہر تار بستر ہے
- جادۂ رہ خور کو وقت شام ہے تار شعاع
- مطرب دل نے مرے تار نفس سے غالبؔ
- جوں صبح چاک جیب مجھے تار و پود تھا
- جب اک نفس الجھا ہوا ہر تار میں آوے
- کہ تار جادہ بھی کہسار کو زنار مینا ہو
- کہ رشتہ تار اشک دیدۂ سوزن نہ ہو جاوے
- کس طرح کاٹے کوئی شب ہائے تار برشگال
- یعنی ہمارے جیب میں اک تار بھی نہیں
- رگ گل جادۂ تار نگہ سے حد موافق ہے
- یاں ہجوم اشک میں تار نگہ نایاب تھا
- ناخن غم یاں سر تار نفس مضراب تھا
- جز تار اشک جادۂ منزل نہیں رہا
- ہر تار زلف کو نگۂ سرمہ سا کہوں
- بسکہ ہر یک موئے زلف افشاں سے ہے تار شعاع
- ہوا ہے تار اشک یاس رشتہ چشم سوزن میں
- تار نفس کمند شکار اثر ہے آج
- سر رشتہ چاک جیب کا تار نظر ہے آج
- کہ تار دامن و تار نظر میں فرق مشکل ہے
- ریختے کے قماش کو پود ہے ایک تار ایک
- تار ریشم کا نہیں ہے یہ رگ ابر بہار
- کہ دیکھ کتنی اٹھا لاے گا یہ تار گرہ
- کرے گا سینکڑوں اس تار پر نثار گرہ
- رواں ہو تار پہ فی الفور دانہ وار گرہ
- شعاع مہر درخشاں ہو اس کا تار نگاہ
- جس نے برباد کیا ریشۂ چندیں شب تار
- ہوں نفس سے صفت نغمہ بہ بند رگ تار
- محروم صدا رہا بغیر از یک تار
- یک تار نفس میں جوں طناب صباغ
- اس رشتے میں لاکھ تار ہوں بلکہ سوا
- شیرے کے تار کا ہے ریشہ نام
- تار تانا پود بانا یاد رکھ