تاب
64 Misre
- دلائی شوخی اندیشہ تاب رنج نومیدی
- معاف پیچ و تاب کشمکش ہر تار بستر ہے
- جوہر شمشیر کو ہے پیچ تاب آئینے پر
- پیچ تاب دل نصیب خاطر آگاہ ہے
- بے خود زبس کہ خاطر بے تاب ہو گئی
- میرے لیے تو تیغ سیہ تاب ہو گئی
- اے جان بر لب آمدہ بے تاب ہو گئی
- کون آیا جو چمن بے تاب استقبال ہے
- میں ہمہ حیرت جنوں بے تاب دوران خمار
- گوہر شب تاب اشک دیدۂ خرشید ہے
- پیچ تاب جادہ ہے خط کف افسوس و بس
- اسدؔ کو پیچ تاب طبع برق آہنگ مسکن سے
- پیچ تاب جادہ ہے یاں جوہر تیغ عسس
- کرمک شب تاب آسا مہ پر افشانی کرے
- بہ بال شعلۂ بے تاب ہے پروانہ زار آتش
- خم گیسو ہو شمشیر سیہ تاب اور شب کاٹے
- کوشش ہمہ بے تاب تردد شکنی ہے
- تھا سپند بزم وصل غیر گو بے تاب تھا
- ذرہ ذرہ روکش خورشید عالم تاب تھا
- بے تاب سیر دل ہے سر ناخن نگار
- ذرہ ذرہ روکش خورشید عالم تاب تھا
- بلبل تصویر ہوں بے تاب اظہار تپش
- تدبیر پیچ تاب نفس کیا کرے کوئی
- تاب عرض تشنگی اے ساقی کوثر نہیں
- کون لا سکتا ہے تاب جلوۂ دیدار دوست
- کردنی ہے جمع تاب شوخیٔ دیدار دوست
- معاف پیچ و تاب کشمکش ہر تار بستر ہے
- ورنہ کس کو میرے افسانے کی تاب استماع
- شر و شور آرزو سے تب و تاب عجز بہتر
- ہوس فروختن ہا تب و تاب سوختن ہا
- ہمہ یک نفس تپش سے تب و تاب ہجر مت پوچھ
- مگر پھر تاب زلف پرشکن کی آزمائش ہے
- نے بھاگنے کی گوں نہ اقامت کی تاب ہے
- بہ پیچ و تاب ہوس سلک عافیت مت توڑ
- ہے دل شوریدۂ غالبؔ طلسم پیچ و تاب
- اے پرتو خورشید جہاں تاب ادھر بھی
- نہ لائی شوخی اندیشہ تاب رنج نومیدی
- نہ لائی شوخی اندیشہ تاب درد نومیدی
- وگرنہ تاب و تواں بال و پر میں خاک نہیں
- ڈالا ہے تم کو وہم نے کس پیچ و تاب میں
- شرر ہے رنگ بعد اظہار تاب جلوۂ تمکیں
- کرمک شب تاب آسا مہ پر افشانی کرے
- نہ لاوے تاب جو غم کی وہ میرا رازداں کیوں ہو
- جتنا کہ وہم غیر سے ہوں پیچ و تاب میں
- تاب لائے ہی بنے گی غالبؔ
- کیوں جل گیا نہ تاب رخ یار دیکھ کر
- مرا شمول ہر اک دل کے پیچ و تاب میں ہے
- ہر چند پشت گرمی تاب و تواں نہیں
- ہے پیچ تاب رشتۂ شمع سحر گہی
- لوگوں کو ہے خورشید جہاں تاب کا دھوکا
- تاب سخن و طاقت غوغا نہیں ہم کو
- کیسا فلک اور مہر جہاں تاب کہاں کا
- آب و تاب انطباع کی پائی
- یہ تاب یہ مجال یہ طاقت نہیں مجھے
- لائے گا تاب گراں باری گوہر سہرا
- شر و شور آرزو سے تب و تاب عجز بہتر
- ہوس فروختن ہا تب و تاب سوختن ہا
- ہمہ یک نفس تپش سے تب و تاب ہجر مت پوچھ
- تو آگ سے گر دفع کرے تاب شرارت
- تجھ کو شرف مہر جہاں تاب مبارک
- جلوہ ہے ساقی مخموری تاب دیوار
- مہر عالم تاب کا منظر کھلا
- دل نے سن کر کانپ کر کھا پیچ و تاب
- جور زلف کی تقریر پیچ تاب خاموشی