تا
107 Misre
- طاعت میں تا رہے نہ مے و انگبیں کی لاگ
- اسدؔ تا کے طبیعت طاقت ضبط الم لاوے
- سروکار تواضع تا خم گیسو رسا نیدن
- جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے
- گرد صحراے حرم تا کوچۂ زنار ہے
- آنکھ کی تصویر سر نامے پہ کھینچی ہے کہ تا
- چاک موج سیل تا پیراہن دیوانہ تھا
- تا دل شب آبنوسی شانہ آسا چاک ہے
- جادہ تا کہسار موے چینی افلاک ہے
- سیل سے فرش کتاں کرتے ہیں تا ویرانہ ہم
- مغرور نہ ہو ناداں سر تا سرگیتی ہے
- وسعت سعی کرم دیکھ کہ سر تا سر خاک
- عروج نشہ ہے سر تا قدم قد چمن رویاں
- تا چند داغ بیٹھیے نقصاں اٹھائیے
- وحشت زخم وفا دیکھ کہ سر تا سر دل
- طوفان نالۂ دل تا موج بوریا ہے
- باندھتا ہے رنگ گل آئینہ تا چاک قفس
- حسرت دست گہ و پاے تحمل تا چند
- رگ گردن خط پیمانۂ بے مل تا چند
- موئنہ بافتن ریشۂ سنبل تا چند
- عینک چشم جنوں حلقۂ کا کل تا چند
- بہ زبان عرض فسون ہوس گل تا چند
- شمع و گل تا کے پروانہ و بلبل تا چند
- شرح بر خود غلطی ہاے تحمل تا چند
- عرض حسرت پس زانوے تامل تا چند
- ناکسی آئنۂ ناز توکل تا چند
- مشکل آساں کن یک خلق تغافل تا چند
- خوں ہوا دل تا جگر یارب زبان شکوہ لال
- تا رکھ نہ سکے کوئی مرے حرف پر انگشت
- تا تخلص جامۂ شنگرفی ارزانی اسدؔ
- بہ ہوس درد سر اہل سلامت تا چند
- گرمی شوق طلب ہے عین تا پاک وصال
- تا آبلہ دعواے تنک پیرہنی ہے
- عیش ابد از خویش بروں تا ختنی ہے
- یاں ہجوم عجز سے تا سجدہ ہے جولان عجز
- دوست جو ساتھ مرے تا لب ساحل آئے
- چشم میں توڑے نمکداں تا شکر خوابی کرے
- تا گل زجگر زخم میں ہے راہ نفس کو
- فرصت آئینہ و پرواز عدم تا ہستی
- یک نگاہ گرم ہے جوں شمع سر تا پا گداز
- تا کوچہ دادن موج خمیازہ آشنا ہے
- کہ خط سبز تا پشت لب سوفار ہو پیدا
- اسدؔ اے ہرزہ درا نالہ بہ غوغا تا چند
- دیدہ تا دل ہے یک آئینہ چراغاں کس نے
- فرش سے تا عرش واں طوفان تھا موج رنگ کا
- عکس خط تا سخن ناصح دانا سرسبز
- تا چند ناز مسجد و بت خانہ کھینچیے
- تا چند نفس غفلت ہستی سے بر آوے
- تا آبلہ محمل کش موج گہر آوے
- سر تا قدم گزارش ذوق سجود تھا
- شعلہ تا نبض جگر ریشہ دوانی مانگے
- تا چند باغبانی صحرا کرے کوئی
- مہ ز سر تا ناخن پا رزق یک شگبیر ہے
- از مہر تا بہ ذرہ دل و دل ہے آئنہ
- تا رکھ نہ سکے کوئی مرے حرف پر انگشت
- تا بیاں کیجے سپاس لذت آزار دوست
- تا قیامت شب فرقت میں گزر جائے گی عمر
- وحشت زخم وفا دیکھ کہ سر تا سر دل
- جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے
- آنکھ کی تصویر سر نامے پہ کھینچی ہے کہ تا
- گرد صحرائے حرم تا کوچۂ زنار ہے
- موجۂ سبزۂ نو خیز سے تا موج شراب
- تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جا
- دیدہ تا دل ہے یک آئینہ چراغاں کس نے
- تا چند باغبانی صحرا کرے کوئی
- سویدا تا بلب زنجیریٔ دود سپند آیا
- سر تا قدم گزارش ذوق سجود تھا
- تا کجا اے آگہی رنگ تماشا باختن
- تا کجا افسوس گرمی ہاۓ صحبت اے خیال
- دل تا جگر کہ ساحل دریائے خوں ہے اب
- تا کرے نہ غمازی کر لیا ہے دشمن کو
- رہا گر کوئی تا قیامت سلامت
- زخم مثل خندۂ قاتل ہے سر تا پا نمک
- بہ ہوس درد سر اہل سلامت تا چند
- فرش سے تا عرش واں طوفاں تھا موج رنگ کا
- تا چند داغ بیٹھیے نقصاں اٹھائیے
- تا کہ تجھ پر کھلے اعجاز ہوائے صیقل
- سیل سے فرش کتاں کرتے ہیں تا ویرانہ ہم
- تا پھر نہ انتظار میں نیند آئے عمر بھر
- شعلہ تا نبض جگر ریشہ داوانی مانگے
- دیا ہے خلق کو بھی تا اسے نظر نہ لگے
- وسعت سعی کرم دیکھ کہ سر تا سر خاک
- تھا گریزاں مژۂ یار سے دل تا دم مرگ
- کہ زمیں ہو گئی ہے سر تا سر
- غنچہ تا شگفتن ہا برگ عافیت معلوم
- طاعت میں تا رہے نہ مے و انگبیں کی لاگ
- بے دماغ خجلت ہوں رشک امتحاں تا کے
- فکر نالہ میں گویا حلقہ ہوں ز سر تا پا
- تا صبح ہے بہ منزل مقصد رسیدنی
- خط رخسار ساقی تا خط ساغر چراغاں ہے
- تا باز گشت سے نہ رہے مدعا مجھے
- تا چند پست فطرتیٔ طبع آرزو
- تا نہ دے باد زمہریر آزار
- تا نہ ہو مجھ کو زندگی دشوار
- تا کجا درس نثر ہاے کہن
- گرہ کی ہے یہی گنتی کہ تا بروز شمار
- اقلیم ہند و سند سے تا ملک روم و شام
- بنے گا شرق سے تا غرب اس کا بازی گاہ
- موج مے لیک زسر تا قدم آغوش خمار
- لیکن اس رشتۂ تحریر میں سر تا سر فکر
- دید تا دل اسدؔ آئینۂ یک پر تو شوق
- راز ہستی اس پر سر تا سر کھلا
- ہر رات شمع شام سے لے تا سحر جلے
- آ پہنچے ہیں تا سواد اقلیم عدم
- اک تسمہ لگا رہا کہ تا روزے چند
- تا قیامت شب فرقت میں گزر جائے گی عمر
- تا مجھے پہنچائے کاہش بخت بد ہے گھات میں