بے
438 Misre
- حسن خوباں بسکہ بے قدر تماشا ہے اسدؔ
- بے چشم دل نہ کر ہوس سیر لالہ زار
- اقبال کلفت دل بے مدعا رسا
- ہے ہے خدا نہ کردہ تجھے بے وفا کہوں
- اے بے تمیز گنج کو ویرانہ چاہیے
- نواے بلبل و گل پاسبان بے دماغی ہے
- گر دکھاؤں صفحۂ بے نقش رنگ رفتہ کو
- بے تکلف آپ پیدا کر کے تف جلتا ہوں میں
- بے محل اے مجلس آراے نجف جلتا ہوں میں
- اثر سوز محبت کا قیامت بے محابا ہے
- بہ بزم مے پرستی حسرت تکلیف بے جا ہے
- دماغ زہد میں آخر غرور بے گناہی ہے
- نہیں ہے خالی آرایش سے بے سامانی عاشق
- گراں جانی سبک ساز و تماشا بے دماغ آیا
- خموشی خانہ زاد چشم بے پروا نگاہاں ہے
- نگاہ بے حجاب ناز تیغ تیز عریاں ہے
- یہ کس بے مہر کی تمثال کا ہے جلوہ سیمابی
- کہ کشت خشک اس کا ابر بے پروا خرام اس کا
- فنا کو عشق ہے بے مقصداں حیرت پرستاراں
- لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی
- برق سامان نظر ہے جلوۂ بے باک حسن
- بس کہ چشم از انتظار خوش خطاں بے نور ہے
- بے سخن تبخالۂ لب دانۂ انگور ہے
- داغ مہر ضبط بے جا مستی سعی سپند
- جوش بے کیفیتی ہے اضطراب آرا اسدؔ
- بے دلوں کو ہے برات اضطراب آئینے پر
- ناز خود بینی کے باعث مجرم صد بے گناہ
- یاں فلاخن باز کس کا نالۂ بے باک ہے
- شعلۂ بے پردہ چین دامن خاشاک ہے
- ہے کمند موج گل فتراک بے تابی اسدؔ
- واں سے ہے تکلیف عرض بے دماغی ہاے دل
- آشنا تعبیر خواب سبزۂ بے گانہ ہم
- فرط بے خوابی سے ہیں شب ہاے ہجر یار میں
- وحشت بے ربطی پیچ و خم ہستی نہ پوچھ
- نہیں ہے باوجود ضعف سیر بے خودی آساں
- بے درد سر بہ سجدۂ الفت فرو نہ ہو
- زلف خیال نازک و اظہار بے قرار
- بے دماغی حیلہ جوے ترک تنہائی نہیں
- جز حیا پیکار سعی بے سروپائی نہیں
- بے خود زبس کہ خاطر بے تاب ہو گئی
- اے جان بر لب آمدہ بے تاب ہو گئی
- بے گانۂ وفا ہے ہواے چمن ہنوز
- خمیازہ کھینچے ہے بت بے داد فن ہنوز
- بے تابی یاد دوست ہم رنگ تسلی ہے
- بے فائدہ یاروں کو فرق غم و شادی ہے
- ہر گرد باد حلقۂ فتراک بے خودی
- سیماب بے قرار و اسدؔ بے قرار تر
- کون آیا جو چمن بے تاب استقبال ہے
- میں ہمہ حیرت جنوں بے تاب دوران خمار
- نشان بے قرار شوق جز مژگاں نہیں باقی
- گر نہیں پاتا درون خانہ ہر بے گانہ جا
- مال و جاہ و دست و پا بے زر خریدہ ہیں اسدؔ
- بس کہ ہیں بے خود و دا رفتہ و حیراں گل و صبح
- اے مدعی خجالت بے جا نہ کھینچیے
- ہے بے خمار نشۂ خون جگر اسدؔ
- اے بے خبری اسے خبر کر
- دریوزۂ ساماں ہا اے بے سروسامانی
- بے گانگی خوہا موج رم آہو ہا
- بے سر و ساماں اسدؔ فتنہ سر انجام ہے
- انگور سعی بے سروپائی سے سبز ہے
- ہوئی ہے سوزش دل بس کہ داغ بے اثری
- دیا یاروں نے بے ہوشی میں درماں کا فریب آخر
- غرور ضبط وقت نزع ٹوٹا بے قراری سے
- ہوا ہے گریۂ بے باک ضبط سے تسبیح
- تکلف خار خار التماس بے قراری ہے
- رکھی بے جا بناے خانۂ زنجیر شیون پر
- ہم اور وہ بے سبب رنج آشنا دشمن کہ رکھتا ہے
- فسردگی میں ہے فریاد بے دلاں تجھ سے
- نہیں ہے سر نوشت عشق غیر از بے دماغی ہا
- دود چراغ گویا زنجیر بے صدا ہے
- یک برگ بے نوائی صد دعوت نیستاں
- بے دلوں سے ہے تپش جوں خواہش آب از سراب
- شوق بے پروا کے ہاتھوں مثل ساز نا درست
- بہار بے خزاں از آہ بے تاثیر ہے پیدا
- گلستاں بے تکلف پیش پا افتادہ مضموں ہے
- تماشا ہے علاج بے دماغی ہاے دل غافل
- رگ گردن خط پیمانۂ بے مل تا چند
- چشم بے خون دل و دل تہی از جوش نگاہ
- اسدؔ وارستگاں باوصف ساماں بے تعلق ہیں
- نکالے کب نہال شمع بے تخم شرار آتش
- بہ بال شعلۂ بے تاب ہے پروانہ زار آتش
- بلا گردان بے پروا خرامی ہاے یار آتش
- ہوئی ہیں آب شرم کوشش بے جا سے تدبیریں
- حکم بے تابی نہیں اور آرمیدن منع ہے
- بے ولاے ساقی کوثر کشیدن منع ہے
- سیلی استاد ہے ساغر بے مل ہنوز
- شغل ہوس در نظر لیک حیا بے خبر
- شیشۂ بے بادہ سے چاہے ہے قلقل ہنوز
- شکوہ درد و درد داغ اے بے وفا معذور رکھ
- عرض درد بے وفائی وحشت اندیشہ ہے
- بے تابی دل تپش انگیز یک طرف
- جوں ماہی بے آب تڑپتی ہے ہر انگشت
- مے پرستاں ناصح بے صرفہ گو بیہودہ ہے
- جز عجز کیا کروں بہ تمناے بے خودی
- قطرے سے میخانۂ دریاے بے ساحل نہ پوچھ
- نفس آئینہ دار آہ بے تاثیر بہتر ہے
- نگہ حیرت سواد خواب بے تعبیر بہتر ہے
- جز خاک بسر کردن بے فائدہ حاصل
- اے بے ثمراں حاصل تکلیف دمیدن
- مجھے اپنے جنوں کی بے تکلف پردہ داری تھی
- ہلاک بے خبری نغمۂ وجود و عدم
- ہزار آفت و یک جان بے نواے اسدؔ
- حیرت سے ترے جلوے کی از بس کہ ہیں بے کار
- حیف بے حاصلی اہل ریا پر غالبؔ
- ذوق سرشار سے بے پردہ ہے طوفاں میرا
- عالم بے سروسامانی فرصت مت پوچھ
- بے دماغ تپش رشک ہوں اے جلوۂ حسن
- فہم زنجیری بے ربطی دل ہے یارب
- دل نالاں سے ہے بے پردہ پیدا
- رہا نظارہ وقت بے نقابی آپ پر لرزاں
- کلفت افسردگی کو عیش بے تابی حرام
- وہ بے دماغ منت اقبال ہوں کہ میں
- اے بے خبر میں نغمۂ چنگ خمیدہ ہوں
- میں بے ہنر کہ جوہر آئینہ تھا عبث
- ہر برگ گل کے پردے میں دل بے قرار تھا
- ہمیں حاصل نہیں بے حاصلی سے
- کوشش ہمہ بے تاب تردد شکنی ہے
- فریاد اسدؔ بے نگہی ہاے بتاں سے
- نغمہ ہے محو ساز رہ نشہ ہے بے نیاز رہ
- وہ بے دماغ جس کو ہوس بھی تپاک ہے
- بس کہ بے پایاں ہے صحراے محبت اے اسدؔ
- جوں ذرہ صد آئینۂ بے زنگ نکالوں
- صبح دم وہ جلوہ ریز بے نقابی ہو اگر
- منت کشی میں حوصلہ بے اختیار ہے
- اے مدعی طلسم عرق بے غبار ہے
- گریہ بے لذت کاوش نہ کرے جرأت شوق
- بے تماشا نہیں جمعیت چشم بسمل
- مبادا بے تکلف فصل کا برگ و نوا گم ہو
- ہوئی ہے ناتوانی بے دماغ شوخی مطلب
- اسیر بے زباں ہوں کاش کے صیاد بے پروا
- اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گداۓ بے سر و پا ہیں
- محبت بے نوا ساز فغاں در پردۂ دل ہا
- بھرا ہے دہر بے دردی سے دل کیجیے کہاں خالی
- نہ ہو حسن تماشا دوست رسوا بے وفائی کا
- رہا بے گانۂ تاثیر افسوں آشنائی کا
- تمنائے زباں محو سپاس بے زبانی ہے
- مٹا جس سے تقاضا شکوۂ بے دست و پائی کا
- اسدؔ یہ عجز و بے سامانی فرعون توام ہے
- تھا سپند بزم وصل غیر گو بے تاب تھا
- گریہ وحشت بے قرار جلوۂ مہتاب تھا
- بے خبر مت کہہ ہمیں بے درد خود بینی سے پوچھ
- بے دلی ہاے اسدؔ افسردگی آہنگ تر
- انتظار صید میں اک دیدۂ بے خواب تھا
- اے اسدؔ بے جا ہے ناز سجدۂ عرض نیاز
- نہیں ہے بے سبب قطرے کو شکل گوہر افسردن
- فغاں بے اختیاری و فریب آرزو خوردن
- نشۂ مے بے چمن دود چراغ کشتہ ہے
- دل لگی کی آرزو بے چین رکھتی ہے ہمیں
- ورنہ یاں بے رونقی سود چراغ کشتہ ہے
- ہو جہاں تیرا دماغ ناز مست بے خودی
- اگر وحشت عرق افشان بے پروا خرامی ہو
- برنگ گل اگر شیرازہ بند بے خودی رہیے
- اسدؔ باوصف مشق بے تکلف خاک گردیدن
- کہ تھا آئینۂ خود بے نقاب زنگ بستن ہا
- نظر پرستی و بے کاری خود آرائی
- سلیمانی ہے ننگ بے دماغان خود آرائی
- وہ مرغ ہے خزاں کی صعوبت سے بے خبر
- نے حسرت تسلی نے ذوق بے قراری
- وحشت بے ربطی پیچ و خم ہستی نہ پوچھ
- بے تاب سیر دل ہے سر ناخن نگار
- واے اے بے خودی و تہمت آرامیدن
- حوصلہ تنگ نہ کر بے سبب آزاروں کا
- ہوئی ہے اس کو مری لاش بے کفن تکیہ
- بے تکلف بہ سجود خم شمشیر آیا
- لے زمیں سے آسماں تک فرش تھیں بے تابیاں
- یاں سر پر شور بے خوابی سے تھا دیوار جو
- یاں نفس کرتا تھا روشن شمع بزم بے خودی
- بے خبر مت کہہ ہمیں بے درد خود بینی سے پوچھ
- بے دلی ہائے اسدؔ افسردگی آہنگ تر
- انتظار عید میں اک دیدۂ بے خواب تھا
- اسدؔ ہے نزع میں چل بے وفا براے خدا
- بے دماغ تپش و عرض دو عالم فریاد
- وحشت درد بیکسی بے اثر اس قدر نہیں
- خار کو بے نیام جان ہم کو برہنہ پا سمجھ
- نغمۂ بے دلاں اسدؔ ساز فسانگی نہیں
- گوش ہا سیمابی و دل بے قرار نغمہ ہے
- ساز عیش بے دلی ہے خانہ ویرانی مجھے
- واے کہ یہ فسردہ دل بیدل و بے دماغ ہے
- بال پری بہ وحشت بے جا نہ کھینچیے
- ناخن کو جگر کاوی میں بے رنگ نکالوں
- بلبل تصویر ہوں بے تاب اظہار تپش
- بے لالہ عارضاں مجھے گلگشت باغ میں
- دیکھ اس کو دل سے مٹ گئے بے اختیار داغ
- وحشت کہاں کہ بے خودی انشا کرے کوئی
- بے تکلف یک نگاہ آشنا ہوجائیے
- وحشت اگر رسا ہے بے حاصلی ادا ہے
- ہر ذرہ یک دل پاک آئینہ خانہ بے خاک
- تمثال شوق بے باک صد جا دوچار صحرا
- حیراں کیے ہوئے ہیں دل بے قرار کے
- آگہی غافل کہ ایک امروز بے فردا نہیں
- عشق کا اس کو گماں ہم بے زبانوں پر نہیں
- جب ہوے ہم بے گنہ رحمت کی کیا تقصیر ہے
- اشک پیدا کر اسدؔ گر آہ بے تاثیر ہے
- کہاں ہے دیدۂ روشن کہ دیکھے بے حجابانہ
- دل کار گاہ فکر و اسدؔ بے نوائے دل
- بے صرفہ ہی گزرتی ہے ہو گرچہ عمر خضر
- اسدؔ ہم وہ جنوں جولاں گداۓ بے سر و پا ہیں
- اسیر بے زباں ہوں کاش کے صیاد بے پروا
- جوں ماہیٔ بے آب تڑپتی ہے ہر انگشت
- انجمن بے شمع ہے گر برق خرمن میں نہیں
- بے تکلف ہوں وہ مشت خس کہ گلخن میں نہیں
- چشم ما روشن کہ اس بے درد کا دل شاد ہے
- بے تکلف دوست ہو جیسے کوئی غم خوار دوست
- ہر برگ گل کے پردے میں دل بے قرار تھا
- زندگی سے بھی مرا جی ان دنوں بے زار ہے
- واسطے جس شہہ کے غالبؔ گنبد بے در کھلا
- مرے دریائے بے تابی میں ہے اک موج خوں وہ بھی
- نہ پوچھ بے خودی عیش مقدم سیلاب
- بے اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوئے
- نشان بے قرار شوق جز مژگاں نہیں باقی
- نظر بہ نقص گدایاں کمال بے ادبی ہے
- خوشا وہ دل کہ سراپا طلسم بے خبری ہو
- کیا وہ بھی بے گنہ کش و حق ناشناس ہیں
- دل بے دست و پا افتادہ بر خوردار بستر ہے
- اشک کو بے سر و پا باندھتے ہیں
- وحشت کہاں کہ بے خودی انشا کرے کوئی
- نگاہ بے حجاب ناز کو بیم گزند آیا
- فضائے خندۂ گل تنگ و ذوق عیش بے پروا
- بے پردہ سوئے وادی مجنوں گزر نہ کر
- اے بے دماغ آئینہ تمثال دار ہے
- کیوں ڈرتے ہو عشاق کی بے حوصلگی سے
- اب بے خبراں میرے لب زخم جگر پر
- گو زندگیٔ زاہد بے چارہ عبث ہے
- ہم اور وہ بے سبب رنج آشنا دشمن کہ رکھتا ہے
- تکلف خار خار التماس بے قراری ہے
- تو فسردگی نہاں ہے بہ کمین بے زبانی
- بہ فریب آشنائی بہ خیال بے وفائی
- چہ امید و نا امیدی چہ نگاہ و بے نگاہی
- نہ کرے اگر ہوس پر غم بے دلی گرانی
- غم عجز کا سفینہ بہ کنار بے دلی ہے
- کروں عذر ترک صحبت سو کہاں وہ بے دماغی
- کرتے ہو شکوہ کس کا تم اور بے وفائی
- تیغ ادا نہیں ہے پابند بے نیامی
- جسے موئے دماغ بے خودی خواب زلیخا ہو
- حسن بے پروا خریدار متاع جلوہ ہے
- بے خطر جیتے ہیں ارباب ریا میرے بعد
- بے طلب دیں تو مزا اس میں سوا ملتا ہے
- لو وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بے ننگ و نام ہے
- پھر بے خودی میں بھول گیا راہ کوئے یار
- ہنوز یک سخن بے صدا نکلتی ہے
- درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے
- گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا
- دل مرا سوز نہاں سے بے محابا جل گیا
- دشنۂ غمزہ جاں ستاں ناوک ناز بے پناہ
- ہاں وہ نہیں خدا پرست جاؤ وہ بے وفا سہی
- بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور کب تلک
- یہ لاش بے کفن اسدؔ خستہ جاں کی ہے
- رہے ہے یوں گہہ و بے گہہ کہ کوئے دوست کو اب
- بے عشق عمر کٹ نہیں سکتی ہے اور یاں
- کیوں نہ ہو بے التفاتی اس کی خاطر جمع ہے
- بے سبب ہوا غالبؔ دشمن آسماں اپنا
- دل لگی کی آرزو بے چین رکھتی ہے ہمیں
- ورنہ یاں بے رونقی سود چراغ کشتہ ہے
- نشۂ مے بے چمن دود چراغ کشتہ ہے
- ہو جہاں تیرا دماغ ناز مست بے خودی
- عقل کہتی ہے کہ وہ بے مہر کس کا آشنا
- بے دماغی شکوہ سنج رشک ہم دیگر نہیں
- بے چشم دل نہ کر ہوس سیر لالہ زار
- رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئے
- کہتا ہے کون نالۂ بلبل کو بے اثر
- یہ کیا بے نیازی ہے حضرت سلامت
- بے در و دیوار سا اک گھر بنایا چاہیے
- وفا مقابل و دعواۓ عشق بے بنیاد
- زخم پر چھڑکیں کہاں طفلان بے پروا نمک
- معاف بے ہودہ گوئی ہیں ناصحان عزیز
- یہ جو اک لذت ہماری سعیٔ بے حاصل میں ہے
- وہ اک گلدستہ ہے ہم بے خودوں کے طاق نسیاں کا
- چراغ مردہ ہوں میں بے زباں گور غریباں کا
- دیا یاروں نے بے ہوشی میں درماں کا فریب آخر
- غرور ضبط وقت نزع ٹوٹا بے قراری سے
- عصاۓ خضر صحراۓ سخن ہے خامہ بے دل کا
- ذوق سرشار سے بے پردہ ہے طوفاں میرا
- عالم بے سر و سامانیٔ فرصت مت پوچھ
- بے دماغ تپش رشک ہوں اے جلوۂ حسن
- فہم زنجیریٔ بے ربطیٔ دل ہے یارب
- حیراں کیے ہوئے ہیں دل بے قرار کے
- خانۂ مجنون صحراگرد بے دروازہ تھا
- یادگار نالہ اک دیوان بے شیرازہ تھا
- بے نوائی تر صداۓ نغمۂ شہرت اسدؔ
- یاں سر پر شور بے خوابی سے تھا دیوار جو
- یاں نفس کرتا تھا روشن شمع بزم بے خودی
- جو کہ کھایا خون دل بے منت کیموس تھا
- داغ دل بے درد نظر گاہ حیا ہے
- معشوقی و بے حوصلگی طرفہ بلا ہے
- بہ فیض بے دلی نومیدیٔ جاوید آساں ہے
- ہوائے سیر گل آئینۂ بے مہریٔ قاتل
- کہ لطف بے تحاشا رفتن قاتل پسند آیا
- خرام ناز بے پروائی قاتل پسند آیا
- شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے
- انگور سعی بے سر و پائی سے سبز ہے
- مے نے کیا ہے حسن خود آرا کو بے حجاب
- بزم خیال مے کدۂ بے خروش ہے
- ذرہ بے پرتو خورشید نہیں
- مے کشی کو نہ سمجھ بے حاصل
- بے نیازی تری عادت ہی سہی
- ہے ہے خدا نہ کردہ تجھے بے وفا کہوں
- اقبال کلفت دل بے مدعا رسا
- بے شانۂ صبا نہیں طرہ گیاہ کا
- فرط بے خوابی سے ہیں شب ہاۓ ہجر یار میں
- وحشت بے ربطی پیچ و خم ہستی نہ پوچھ
- دیکھ کے میری بے خودی چلنے لگی ہوا کہ یوں
- خمیازہ کھینچے ہے بت بے داد فن ہنوز
- جوں جادہ سر بہ کوئے تمناۓ بے دلی
- نہ لٹتا دن کو تو کب رات کو یوں بے خبر سوتا
- ہوئی یہ بے خودی چشم و زباں کو تیرے جلوے سے
- تصور ہوں بے موجب آزردگاں کا
- فنا تعلیم درس بے خودی ہوں اس زمانے سے
- دل خونیں جگر بے صبر و فیض عشق مستغنی
- اسدؔ اے بے تحمل عربدہ بیجا ہے ناصح سے
- کہ آخر بے کسوں کا زور چلتا ہے گریباں پر
- لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی
- گریہ ہائے بے دلاں گنج شرر در آستیں
- وہ بے دماغ منت اقبال ہوں کہ میں
- وو التماس لذت بے داد ہوں کہ میں
- آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میرؔ نہیں
- اثر سوز محبت کا قیامت بے محابا ہے
- اثر مرے نفس بے اثر میں خاک نہیں
- اک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے
- سر پائے خم پہ چاہیے ہنگام بے خودی
- جب رشتہ بے گرہ تھا ناخن گرہ کشا تھا
- تم کو بے مہری یاران وطن یاد نہیں
- جذبۂ بے اختیار شوق دیکھا چاہیے
- نکوہش ہے سزا فریادی بے داد دلبر کی
- کروں بے داد ذوق پر فشانی عرض کیا قدرت
- ہوا جب غم سے یوں بے حس تو غم کیا سر کے کٹنے کا
- پناوے بے گداز موم ربط پیکر آرائی
- نکالے کیا نہال شمع بے تخم شرار آتش
- بلا گردان بے پروا خرامی ہائے یار آتش
- محبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بے دماغی ہے
- میں گرد راہ ہوں بے مدعا ہے پیچ و خم میرا
- نکوہش مانع بے ربطی شور جنوں آئی
- ڈالا نہ بے کسی نے کسی سے معاملہ
- پاس بے رونقی دیدہ اہم ہے ہم کو
- فلک سفلہ بے محابا ہے
- راز مکتوب بہ بے ربطی عنواں سمجھا
- اضطراب عمر بے مطلب نہیں آخر کہ ہے
- کثرت جور و ستم سے ہو گیا ہوں بے دماغ
- نہ ہو حسن تماشا دوست رسوا بے وفائی کا
- نہ مارا جان کر بے جرم غافل تیری گردن پر
- رہا مانند خون بے گنہ حق آشنائی کا
- تمناۓ زباں محو سپاس بے زبانی ہے
- مٹا جس سے تقاضا شکوۂ بے دست و پائی کا
- عدم تک بے وفا چرچا ہے تیری بے وفائی کا
- اسدؔ یہ عجز و بے سامانیٔ فرعون توام ہے
- پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے
- پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں
- بے خودی بے سبب نہیں غالبؔ
- چاک مت کر جیب بے ایام گل
- بے گہر صدف گویا پشت چشم نیساں ہے
- اسدؔ ہے نزع میں چل بے وفا برائے خدا
- ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو
- ہیں کتنے بے حجاب کہ ہیں یوں حجاب میں
- بے تکلف اے شرار جستہ کیا ہو جائیے
- بے تکلف یک نگاہ آشنا ہوجائیے
- درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا
- آہ بے اثر دیکھی نالہ نارسا پایا
- سادگی و پرکاری بے خودی و ہشیاری
- بے دماغ خجلت ہوں رشک امتحاں تا کے
- بے چارہ چند روز کا یاں میہمان ہے
- رکتا ہوں تم کو بے سبب آزار دیکھ کر
- یعنی بغیر یک دل بے مدعا نہ مانگ
- رحمت کہ عذر خواہ لب بے سوال ہے
- بے تکلف داغ مہ مہر دہاں ہو جائے گا
- عجب آرام دیا بے پر و بالی نے مجھے
- مرغ خیال بلبل بے بال و پر ہے آج
- مجھے دماغ نہیں خندہ ہائے بے جا کا
- نگاہ بے حجاب ناز تیغ تیز عریاں ہے
- اسدؔ جمعیت دل در کنار بے خودی خوش تر
- رہا بے قدر دل در پردۂ جوش ظہور آخر
- بے خودی بستر تمہید فراغت ہو ۔۔۔جو
- بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
- اسدؔ ہے نزع میں چل بے وفا برائے خدا
- بے صدا ہو جائے گا یہ ساز ہستی ایک دن
- جز عجز کیا کروں بہ تمنائے بے خودی
- عشق كا اس کو گماں ہم بے زبانوں پر نہیں
- نوازش ہائے بے جا دیکھتا ہوں
- نگاہ بے محابا چاہتا ہوں
- نفس موج محیط بے خودی ہے
- تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہ
- کرتا ہے بسکہ باغ میں تو بے حجابیاں
- زنہار نہ ہونا طرف ان بے ادبوں سے
- اے بے تمیز گنج کو ویرانہ چاہیے
- مینائے بے شراب و دل بے ہوائے گل
- بے اختیار دوڑے ہے گل در قفائے گل
- یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کا
- بے مے کسے ہے طاقت آشوب آگہی
- بے خون دل ہے چشم میں موج نگہ غبار
- اے شہنشاہ فلک منظر بے مثل و نظیر
- اے جہاندار کرم شیوۂ بے شبہ و عدیل
- تپش دل نہیں بے رابطۂ خوف عظیم
- کشش دم نہیں بے ضابطۂ جر ثقیل
- تھا میں اک بے نواے گوشہ نشیں
- گرچہ از روے ننگ بے ہنری
- گلشن اتفاق میں ایک بہار بے خزاں
- میکدۂ وفاق میں بادۂ بے خمار ایک
- لاکھوں ہی آفتاب ہیں اور بے شمار چاند
- بے شمول عبارت آرائی
- کئی ہزار برس بلکہ بے شمار برس
- بار ور جس کا سرو گل بے خار
- تین بھیجے رپے وہ بے کم و کاست
- کمال فکر میں دیکھا خرد نے بے آرام
- یہ بھی اک بے ادبی تھی کہ قبا سے بڑھ جائے
- بہ فریب آشنائی بہ خیال بے وفائی
- چہ امید و نا امیدی چہ نگاہ و بے نگاہی
- کروں عذر ترک صحبت سو کہاں وہ بے دماغی
- بے دلی ہاے تماشا کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق
- عشق بے ربطی شیرازۂ اجزاے حواس
- بے ستوں آئنۂ خواب گران شیریں
- گفتگو بے مزہ و زخم تمنا نمکیں
- یہ کہکشاں ہے کہ ہیں اس میں بے شمار گرہ
- بے وجہ کیوں ذلیل ہو غالبؔ ہے جس کا نام
- ساز یک ذرہ نہیں فیض چمن سے بے کار
- سایۂ لالۂ بے داغ سویداے بہار
- خندۂ بے خودی کبک بدندان شرار
- بے ستوں سبزے سے ہے سنگ زمرد کا مزار
- سینہ بے تابی سے ملتا ہے بہ تیغ کہسار
- زانوے آئنہ پرمارے ہے دست بے کار
- پشت لب تہمت خط کھینچے ہے بے جا یعنی
- لالہ ہا داغ برافگندہ و گل ہا بے خار
- کہ ہوا ساغر بے حوصلۂ دل سرشار
- وہ رہے مروحۂ بال پری سے بے زار
- بے خبر دے بکف پاے مسافر آزار
- ذوق بے تابی دیدار سے تیرے ہے ہنوز
- تہمت بے خودی کفر نہ کھینچے یارب
- تھا دل وابستہ قفل بے کلید
- اے کثرت فہم بے شمار اندیشہ
- بے گریہ کمال ترجبینی ہے مجھے
- یہ شاہ پسند دال بے بحث و جدال
- حاجی کلو کو دے کے بے وجہ جواب
- اے ہمہ بے مدعائی یک دعا ہو جائیے
- بے چارہ کتنی دور سے آیا ہے شیخ جی
- روٹھا جو بے گناہ تو بے عذر من گیا
- مے کشی کو نہ سمجھ بے حاصل
- تھکا جب قطرۂ بے دست و پا بالا دویدن سے
- جس کے پڑھنے سے ہو راضی بے نیاز
- جو کہ بے چین اور بے آرام ہے
- واہ بے لڑکے پڑھی اچھی غزل
- وصل کی شب اے بت بے پیر آدھی رہ گئی