بیکسی
14 Misre
- کیوں نہ ہووے آج کے دن بیکسی کی روح شاد
- بارے اپنی بیکسی کی ہم نے پائی داد یاں
- بیکسی افسردہ ہوں اے ناتوانی کیا کروں
- جنون بیکسی ساغر کش داغ پلنگ آیا
- وحشت درد بیکسی بے اثر اس قدر نہیں
- آئے ہے بیکسی عشق پہ رونا غالبؔ
- بارے اپنی بیکسی کی ہم نے پائی داد یاں
- ہے اسدؔ بیگانۂ افسردگی اے بیکسی
- بیکسی میری شریک آئینہ تیرا آشنا
- رکھ لی مرے خدا نے مری بیکسی کی شرم
- ایک بیکسی تجھ کو عالم آشنا پایا
- بیکسی ہائے شب ہجر کی وحشت ہے ہے
- ناچار بیکسی کی بھی حسرت اٹھائیے
- بیکسی ہاے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں