بیٹھے
8 Misre
توڑ بیٹھے جب کہ ہم جام و سبو پھر ہم کو کیا
بیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم غیر ہمیں اٹھائے کیوں
بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے
بیٹھے ہیں ہم تہیۂ طوفاں کیے ہوئے
دہن شیر میں جا بیٹھے لیکن اے دل
دل اس کو پہلے ہی ناز و ادا سے دے بیٹھے
ہم ہی کر بیٹھے تھے غالبؔ پیش دستی ایک دن
گر بگڑ بیٹھے تو میں لائق تعزیر بھی تھا
ب
All Letters