بیمار
24 Misre
- فغان دل بہ پہلو نالۂ بیمار بدخو ہے
- ناخن انگشت بتخال لب بیمار ہے
- دل بیمار از خود رفتہ تصویر نہالی ہے
- یعنی اس بیمار کو نظارے سے پرہیز ہے
- خوب وقت آئے تم اس عاشق بیمار کے پاس
- تکلف کو خیال آیا ہو گر بیمار پرسی کا
- عیادت سے اسدؔ میں بیشتر بیمار ہوتا ہوں
- نبض بیمار وفا دود چراغ کشتہ ہے
- عرض حیرانی بیمار محبت معلوم
- رگ ہر سنگ سے نبض دل بیمار ہو پیدا
- کشتۂ دشمن ہوں آخر گرچہ تھا بیمار دوست
- ناخن انگشت بت خال لب بیمار ہے
- تیرے بیمار پہ ہیں فریادی
- وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
- تیرا بیمار برا کیا ہے گر اچھا نہ ہوا
- نبض بیمار وفا دود چراغ کشتہ ہے
- پڑیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیماردار
- لو ہم مریض عشق کے بیمار دار ہیں
- خوب وقت آئے تم اس عاشق بیمار کے پاس
- یعنی اس بیمار کو نظارے سے پرہیز ہے
- باد افسانۂ بیمار ہے عیسی کا نفس
- بادہ پر زور و نفس مست و مسیحا بیمار
- مژۂ دیدۂ نخچیر سے نبض بیمار
- ہوں درد ہلاک نامہ بر سے بیمار