بیم
18 Misre
- بیم طبع نازک خوباں سے وقت سیر باغ
- یک جانب اے اسدؔ شب فرقت کا بیم ہے
- گھبرا رہی ہے بیم خزاں سے بہار حیف
- بیم رقیب سے نہیں کرتے وداع ہوش
- ہنوز دعوی تمکین و بیم رسوائی
- شکوہ و شکر کو ثمر بیم و امید کا سمجھ
- گاہ بخلد امیدوار گہ بہ جحیم بیم ناک
- بیم رقیب سے نہیں کرتے وداع ہوش
- گھبرا رہی ہے بیم خزاں سے بہار حیف
- اللہ رے تیری تندی خو جس کے بیم سے
- نگاہ بے حجاب ناز کو بیم گزند آیا
- نہ فکر سلامت نہ بیم ملامت
- کیا بیم اہل درد کو سختیٔ راہ کا
- لیکن یہ بیم ہے کہ کہاں سے ادا کروں
- خانہ ویرانی امید و پریشانی بیم
- کوہ کو بیم سے اس کے ہے جگر باختگی
- بیم سے جس کے صبا توڑے ہے صد جا زنار
- بیم سے جس کے دل شحنۂ تقدیر فگار