بیداد
23 Misre
- بیداد انتظار کی طاقت نہ لا سکی
- فسون یک دلی ہے لذت بیداد دشمن پر
- ہے ترحم آفریں آرایش بیداد یاں
- وہ التماس لذت بیداد ہوں کہ میں
- تم ہو بیداد سے خوش اس سے سوا اور سہی
- ایک بیداد گر رنج فزا اور سہی
- دل کو اے بیداد خو تعلیم خارائی عبث
- دل کو اے بیداد خو تعلیم خارائی عبث
- طاقت بیداد انتظار نہیں ہے
- عشق میں بیداد رشک غیر نے مارا مجھے
- فسون یک دلی ہے لذت بیداد دشمن پر
- در خور عرض نہیں جوہر بیداد کو جا
- کیا پوجتا ہوں اس بت بیداد گر کو میں
- ہے ترحم آفریں آرائش بیداد یاں
- بیاں کیا کیجیے بیداد کاوش ہائے مژگاں کا
- کیوں نہ ٹھہریں ہدف ناوک بیداد کہ ہم
- بیداد عشق سے نہیں ڈرتا مگر اسدؔ
- ہے تقاضائے جفا شکوۂ بیداد نہیں
- نوید امن ہے بیداد دوست جاں کے لیے
- ودیعت خانۂ بیداد کاوش ہاۓ مژگاں ہوں
- بیداد وفا دیکھ کہ جاتی رہی آخر
- جوش بیداد تپش سے ہوئی عریاں آخر
- ورنہ وہ ناز ہے جس گلشن بیداد سے تھا