بہت
30 Misre
- اب اس سے ربط کروں جو بہت ستمگر ہو
- بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کی
- وہ جو نازک ہے کمر اس پہ بہت دل آئے
- ہیں ہوس پیشہ بہت وہ نہ ہو اور سہی
- معنی ہیں بہت تو لفظ تھوڑے
- بہت سہی غم گیتی شراب کم کیا ہے
- تیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئے
- بھاگے تھے ہم بہت سو اسی کی سزا ہے ی
- مے وہ کیوں بہت پیتے بزم غیر میں یا رب
- غم کھانے میں بودا دل ناکام بہت ہے
- یہ رنج کہ کم ہے مئے گلفام بہت ہے
- ہے یوں کہ مجھے درد تہ جام بہت ہے
- گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے
- پاداش عمل کی طمع خام بہت ہے
- پابستگی رسم و رہ عام بہت ہے
- آلودہ بہ مے جامۂ احرام بہت ہے
- انکار نہیں اور مجھے ابرام بہت ہے
- رہنے دے مجھے یاں کہ ابھی کام بہت ہے
- شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے
- بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کی
- بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
- بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
- ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
- بگڑی ہے بہت بات بنائے نہیں بنتی
- حیدرآباد بہت دور ہے اس ملک کے لوگ
- اس کو کرتے ہیں بہت بڑھ کے بہ اغراق رقم
- پڑی ہے یہ جو بہت سخت نابکار گرہ
- ہیں گرچہ بہت خلیفہ ان میں ہیں چار
- بہت ہے پایۂ گرد رہ حسین بلند
- بہت جیوں تو جیوں اور تین چار برس