بہ
390 Misre
- صحرا مگر بہ تنگی چشم حسود تھا
- دیکھ اے اسدؔ بہ دیدۂ باطن کہ ظاہرا
- بہ یک مژگان خوباں صد چمن خوابیدنی جانے
- بہ یاد قامت اگر ہو بلند آتش غم
- جوں چراغان دوالی صف بہ صف جلتا ہوں میں
- بہ نالہ حاصل دلبستگی فراہم کر
- بہ مرگ تکیۂ آسایش فنا معلوم
- بہ سعی غیر ہے قطع لباس خانہ ویرانی
- سرتا بہ پا ہوں جیب دریدہ
- بہ بزم مے پرستی حسرت تکلیف بے جا ہے
- بہ سختی ہاے قید زندگی معلوم آزادی
- بہ فکر حیرت رم آئنہ پرواز زانو ہے
- فغان دل بہ پہلو نالۂ بیمار بدخو ہے
- بہ غفلت عطر گل ہم آگہی مخمور ملتے ہیں
- بہ مہر نامہ جو بوسہ گل پیام رہا
- بہ نقص ظاہری رنگ کمال طبع پنہاں ہے
- بہ بوے زلف مشکیں یہ دماغ آشفتۂ رم ہیں
- بہ پاس شوخی مژگاں سر ہر خار سوزن ہے
- بہ وحشت گاہ امکاں اتفاق چشم مشکل ہے
- بہ رہن شرم ہے با وصف شوخی اہتمام اس کا
- بہ امید نگاہ خاص ہوں محمل کش حسرت
- بہ شغل انتظار مہو شاں در خلوت شب ہا
- رفوئے زخم کرتی ہے بہ نوک نیش عقرب ہا
- بہ پائے خفتہ سیر وادی پر خار بستر ہے
- بہ تقریب نگارش ہاے سطر شعلہ باد آتش
- بہ وقت سرنگونی ہے تصور انتظارستاں
- بہ رہن ضبط ہے آئینہ بندی گوہر
- اسدؔ بہ نازکی طبع آرزو انصاف
- پنجۂ مژگاں بہ طفل اشک دست دایہ ہے
- ورنہ صد محشر بہ رہن جلوۂ رخسار ہے
- بہ غرور طرح قامت و رعنائی سرد
- کی ہے وا اہل جہاں نے بہ گلستان جہاں
- جادۂ گلشن بہ رنگ ریشہ زیر خاک ہے
- مشق از خود رفتگی سے ہیں بہ گلزار خیال
- کشتی عالم بہ طوفان تغافل دے کہ ہیں
- بہ وہم زر گرہ میں باندھتے ہیں برق حاصل ہا
- بہ نوک ناخن شمشیر کیجیے حل مشکل ہا
- بے درد سر بہ سجدۂ الفت فرو نہ ہو
- نشتر بہ مغز پنبۂ مینا فرو نہ ہو
- درد طلب بہ آبلۂ نا دمیدہ کھینچ
- پاے نظر بہ دامن شوق دویدہ کھینچ
- بیخود بہ لطف چشمک عبرت ہے چشم صید
- فرش طرب بہ گلشن نا آفریدہ کھینچ
- ساغر بہ بارگاہ دماغ رسیدہ کھینچ
- جوں جادہ سر بہ کوے تمناے بیدلی
- بینش بہ سعی ضبط جنوں نو بہار تر
- قاتل بہ عزم ناز و دل از زخم در گداز
- چشم سیہ بہ مرگ نگہ سوگوار تر
- پس بہ دل ہاے و گر راحت رسانی مفت ہے
- دعوی عشق بتاں سے بہ گلستاں گل و صبح
- داغ اطفال ہے دیوانہ بہ کہسار ہنوز
- دامان دل بہ وہم تماشا نہ کھینچیے
- پاے نظر بہ دامن صحرا نہ کھینچیے
- درد طلب بہ آبلۂ پا نہ کھینچیے
- صورت بہ کارخانۂ دیبا نہ کھینچیے
- دست ہوس بہ گردن مینا نہ کھینچیے
- اے دل بہ خیال عارض یار
- بہ گرد سر مہ انداز نگاہ شرمگیں پایا
- بہ حسرت گاہ ناز کشتۂ جاں بخشی خوباں
- دیکھ تری خوے گرم دل بہ تپش رام ہے
- فرصت رقص شرر بوسہ بہ پیغام ہے
- شوق مفت زندگی ہے اے بہ غفلت مردگاں
- بہ دم چند گرفتار غم چند رہا
- بہ پرفشانی پروانۂ چراغ مزار
- برنگ بستہ بہ زہراب دادہ پیکاں ہے
- بہ رنگ جادہ سر کوے یار رکھتے ہیں
- ہزار دل بہ وداع قرار رکھتے ہیں
- پری بہ شیشہ و عکس رخ اندر آئینہ
- رشتۂ فہمید ممسک ہے بہ بند کو تہی
- ہے بہ صحراے تحیر چشم قربانی جرس
- بسمل ذوق پریدن ہے بہ بال عندلیب
- بہ زبان عرض فسون ہوس گل تا چند
- بہ انداز حنا ہے رونق دست چنار آتش
- بہ بال شعلۂ بے تاب ہے پروانہ زار آتش
- ہوں بہ وحشت انتظار آوارۂ دشت خیال
- صفا و شوخی و انداز حسن پا بہ رکاب
- ہے سرمہ گر درہ بہ گلوے جرس تمام
- جز عجز کیا کروں بہ تمناے بے خودی
- دعاے دل بہ محراب خم شمشیر بہتر ہے
- ہر چند بہ میدان ہوس تاختنی ہے
- گردن بہ تماشاے گل افراختنی ہے
- بہ زلف مہ وشاں رہتی ہے شب بیدار ظاہر ہے
- ہوئی ہے محو بہ تقریب امتحاں فریاد
- بہ کام دل کریں کس طرح گمرہاں فریاد
- خور قطرۂ شبنم میں ہے جوں شمع بہ فانوس
- نفس بہ نالہ رقیب و نگہ بہ اشک عدو
- بہ کسوت عرق شرم قطرہ زن ہے خیال
- حسرت نشہ وحشت نہ بہ سعی دل ہے
- بہ ہوس درد سر اہل سلامت تا چند
- ہالۂ دیگر بہ گرد ہالۂ مہ ہو گیا
- بہ شیرینی خواب آلودہ مژگاں نشتر زنبور
- صدف دندان گوہر سے بہ حسرت اپنے لب کاٹے
- کہ میں نے دست و پا باہم بہ شمشیر ادب کاٹے
- خوش اوفتادگی کہ بہ صحراے انتظار
- وحشت بہ داغ سایۂ بال ہما کروں
- خوں در جگر نہفتہ بہ زردی رسیدہ ہوں
- ہے دست رد بہ سیر جہاں بستن نظر
- یعنی کہ بندۂ بہ درم نا خریدہ ہوں
- خواب غفلت بہ کمیں گاہ نظر پنہاں ہے
- شام ساے میں بہ تاراج سحر پنہاں ہے
- بہ بند گریہ نقش بر آب اندیشہ رستن کا
- دی لطف ہوا نے بہ جنوں طرفہ نزاکت
- از بس کہ ہے محو بہ چمن تکیہ زدن ہا
- کہ بہ یک جنبش لب مثل صدا جاتا ہوں
- بیباک ہوں از بس کہ بہ بازار محبت
- رہنے دو گرفتار بہ زندان خموشی
- گریہ سرشاری شوق بہ بیاباں زدہ ہے
- بہ قدر رنگ یاں گردش میں ہے پیمانہ محفل کا
- بہ قدر ظرف ہے ساقی خمار تشنہ کامی بھی
- نہ بندھا تھا بہ عدم نقش دل مور ہنوز
- عرق بھی جن کے عارض پر بہ تکلیف حیا گم ہو
- بہ مہر صد نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا
- بہ جیب آرزو پنہاں ہے حاصل دل ربائی کا
- بہ رنگ شعلہ ہے مہر نماز از پا نشستن ہا
- بہ بند گریہ ہے نقش بر آب امید رستن ہا
- بہ عشق ساقی کوثر بہار بادہ پیمائی
- آہنگ عدم نالہ بہ کہسار گرد ہے
- یارب آئینہ بہ طاق خم شمشیر آوے
- پاے خوابیدہ بہ دلجوئی شب گیر آوے
- موجۂ ریگ سے دل پاے بہ زنجیر آوے
- سر معنی بہ گریبان شق خامہ اسدؔ
- کشتی عالم بہ طوفان تغافل دے کہ ہیں
- بال پری بہ شوخی موج صبا گرو
- یاں نعل ہے بہ آتش رنگ حنا گرو
- بہ سنگ شیشہ توڑوں ساقیا پیمانہ پیماں
- دم جب کہ بہ وقت نزع توڑے
- وحشت نالہ بہ وا ماندگی وحشت ہے
- اسدؔ اے ہرزہ درا نالہ بہ غوغا تا چند
- پاے صد موج بہ طوفاں کدۂ دل باندھا
- دست موسیٰ بہ سر دعوی باطل باندھا
- نامۂ شوق بہ بال پر بسمل باندھا
- نا امیدی نے بہ تقریب مضامین خمار
- محمل دشت بہ دوش رم نخچیر آیا
- پر طاؤس سے دل پائے بہ زنجیر آیا
- کہ کلہ گوشہ بہ پرواز پر تیر آیا
- بے تکلف بہ سجود خم شمشیر آیا
- گاہ بخلد امیدوار گہ بہ جحیم بیم ناک
- اے بہ سراب حسن خلق تشنۂ سعی امتحاں
- پاے نظر بہ دامن افسانہ کھینچیے
- زلف پری بہ سلسلۂ آرزو رسا
- بال پری بہ وحشت بے جا نہ کھینچیے
- رخت جنون سیل بہ ویرانہ کھینچیے
- ہر ذرہ بہ کیفیت ساغر نظر آوے
- آئینہ بہ عریانی زخم جگر آوے
- بہ جیب اشک چشم سرمہ آلود
- میرا سفر بہ طالع چشم حسود تھا
- بہ از چاک گریباں گلستاں کا در نہیں ہوتا
- عکس رخ افروختہ تھا تصویر بہ پشت آئینہ
- صورت اشک بہ مژگان رگ تاک چڑھا
- میں جو گردوں کو بہ میزان طبیعت تولا
- ہے پر افشان طپیدن ہا بہ تکلیف ہوس
- نالۂ دل بہ کمر دامن قطع شب تھا
- بہ تحیر کدۂ فرصت آرایش وصل
- بہ تمنا کدۂ حسرت ذوق دیدار
- بہ گمرہی سکندر ہے محو حیرانی
- نظر بہ غفلت اہل جہاں ہوا ظاہر
- بہ ہنگام تصور ساغر زانو سے پیتا ہوں
- از مہر تا بہ ذرہ دل و دل ہے آئنہ
- غفلت بہ بال جوہر شمشیر پرفشاں
- خالی مجھے دکھلا کے بہ وقت سفر انگشت
- نشہ بہ اندازۂ خمار نہیں ہے
- اے عدوئے مصلحت چند بہ ضبط افسردہ رہ
- فال رسوائی سرشک سر بہ صحرا دادہ سے
- گل صد شعلہ بہ یک جیب شکیبائی ہے
- ورنہ صد محشر بہ رہن صافیٔ رخسار ہے
- جوہر تیغ بہ سر چشمۂ دیگر معلوم
- بہ فسون نگۂ ناز ستاتا ہے مجھے
- یوسف گل جلوہ فرما ہے بہ بازار چمن
- سو رہتا ہے بہ انداز چکیدن سرنگوں وہ بھی
- تو ہو اور آپ بہ صد رنگ گلستاں ہونا
- رہبر قطرہ بہ دریا ہے خوشا موج شراب
- دے ہے تسکیں بہ دم آب بقا موج شراب
- کہ ناچتے ہیں پڑے سر بہ سر در و دیوار
- بہ نالہ حاصل دل بستگی فراہم کر
- بہ قدر حوصلۂ عشق جلوہ ریزی ہے
- بہ مرگ تکیۂ آسائش فنا معلوم
- کوئی بتاؤ کہ وہ زلف خم بہ خم کیا ہے
- نامہ بھی لکھتے ہو تو بہ خط غبار حیف
- تھا محمل نگاہ بہ دوش شرار حیف
- نظر بہ نقص گدایاں کمال بے ادبی ہے
- سرشک سر بہ صحرا دادہ نور العین دامن ہے
- بہ طوفاں گاہ جوش اضطراب شام تنہائی
- بہ پائے خفتہ سیر وادیٔ پر خار بستر ہے
- شوق کو پا بہ حنا باندھتے ہیں
- دست شانہ بہ قضا باندھتے ہیں
- شعلۂ آواز خوباں پر بہ ہنگام سماع
- جب بہ تقریب سفر یار نے محمل باندھا
- اہل بینش نے بہ حیرت کدۂ شوخی ناز
- نامۂ شوق بہ حال دل بسمل باندھا
- ناامیدی نے بہ تقریب مضامین خمار
- عالم غبار وحشت مجنوں ہے سر بہ سر
- صحرا مگر بہ تنگی چشم حسود تھا
- عالم جہاں بہ عرض بساط وجود تھا
- میرا سفر بہ طالع چشم حسود تھا
- بہ رنگ کاغذ آتش زدہ نیرنگ بیتابی
- تو فسردگی نہاں ہے بہ کمین بے زبانی
- مجھے اس سے کیا توقع بہ زمانۂ جوانی
- بہ گمان قطع زحمت نہ دو چار خامشی ہو
- بہ فریب آشنائی بہ خیال بے وفائی
- بہ فراز گاہ عبرت چہ بہار و کو تماشا
- کہ نگاہ ہے سیہ پوش بہ عزائے زندگانی
- بہ فراق رفتہ یاراں خط و حرف مو پریشاں
- کہ نہ دے عنان فرصت بہ کشاکش زبانی
- بہ شکنج جستجوہا بہ سراب گفتگوہا
- تگ و تاز آرزوہا بہ فریب شادمانی
- اگر آرزو ہے راحت تو عبث بہ خوں تپیدن
- کہ خیال ہو تعب کش بہ ہوائے کامرانی
- سر شمع نقش پا ہے بہ سپاس ناتوانی
- خم پشت خوشنما تھا بہ گزارش جوانی
- وہ اجل کہ خوں بہا ہو بہ شہید ناتوانی
- غم عجز کا سفینہ بہ کنار بے دلی ہے
- دل نا امید کیونکر بہ تسلی آشنا ہو
- جو امیدوار رہیے نہ بہ مرگ ناگہانی
- مجھے بادۂ طرب سے بہ خمار گاہ قسمت
- بہ ہزار امیدواری رہی ایک اشک باری
- کف موجۂ حیا ہوں بہ گزار عرض مطلب
- کہ سرشک قطرہ زن ہے بہ پیام دل رسانی
- نہ ہو بہ ہرزہ بیاباں نورد وہم وجود
- بہ قدر حسرت دل چاہیے ذوق معاصی بھی
- حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے
- بہ پاس شوخیٔ مژگاں سر ہر خار سوزن ہے
- بہ رنگ شیشہ ہوں یک گوشۂ دل خالی
- دل بہ سوز آتش داغ تمنا جل گیا
- ذکر میرا بہ بدی بھی اسے منظور نہیں
- کرے ہے صرف بہ ایماۓ شعلہ قصہ تمام
- بہ طرز اہل فنا ہے فسانہ خوانی شمع
- بہ جلوہ ریزی باد و بہ پر فشانی شمع
- گردش مجنوں بہ چشمک ہائے لیلیٰ آشنا
- نہیں گر بہ کام دل خستہ گردوں
- بہ پیچ و تاب ہوس سلک عافیت مت توڑ
- گرد ساحل ہے بہ زخم موجۂ دریا نمک
- زمانہ سخت کم آزار ہے بہ جان اسدؔ
- تن بہ بند ہوس در ندادہ رکھتے ہیں
- بہ عکس آئنہ یک فرد سادہ رکھتے ہیں
- بہ رنگ سایہ ہمیں بندگی میں ہے تسلیم
- کہ داغ دل بہ جبین کشادہ رکھتے ہیں
- بہ زاہداں رگ گردن ہے رشتۂ زنار
- سر بہ پاۓ بت نا نہادہ رکھتے ہیں
- دل بہ دست نگارے ندادہ رکھتے ہیں
- بہ رنگ سبزہ عزیزان بد زباں یک دست
- ہزار تیغ بہ زہر آب دادہ رکھتے ہیں
- بسکہ روکا میں نے اور سینے میں ابھریں پے بہ پے
- بہ قدر رنگ یاں گردش میں ہے پیمانہ محفل کا
- حسرت نشۂ وحشت نہ بہ سعیٔ دل ہے
- بہ ہوس درد سر اہل سلامت تا چند
- بعد از وداع یار بہ خوں در تپیدہ ہیں
- نالۂ دل نے دیے اوراق لخت دل بہ باد
- دل بہ دل پیوستہ گویا یک لب افسوس تھا
- دست برسر سر بہ زانوئے دل مایوس تھا
- شبنم بہ گل لالہ نہ خالی ز ادا ہے
- آئینہ بہ دست بت بد مست حنا ہے
- تمثال میں تیری ہے وہ شوخی کہ بہ صد ذوق
- آئینہ بہ انداز گل آغوش کشا ہے
- تماشائے بہ یک کف بردن صد دل پسند آیا
- بہ فیض بے دلی نومیدیٔ جاوید آساں ہے
- کہ انداز بہ خوں غلتیدن بسمل پسند آیا
- کام یاروں کا بہ قدر لب و دنداں نکلا
- صد جلوہ رو بہ رو ہے جو مژگاں اٹھائیے
- غالبؔ بہ دوش دل خم مستاں اٹھائیے
- ساقی بہ جلوہ دشمن ایمان و آگہی
- مطرب بہ نغمہ رہزن تمکین و ہوش ہے
- تمہارے آئیو اے طرہ ہاۓ خم بہ خم آگے
- دو جہاں وسعت بہ قدر یک فضاۓ خندہ ہے
- ہوں قطرہ زن بہ وادیٔ حسرت شبانہ روز
- ضعف سے گریہ مبدل بہ دم سرد ہوا
- حلقے ہیں چشم ہاۓ کشادہ بہ سوئے دل
- غافل بہ وہم ناز خود آرا ہے ورنہ یاں
- مشق از خود رفتگی سے ہیں بہ گلزار خیال
- کشتی عالم بہ طوفان تغافل دے کہ ہیں
- آلودہ بہ مے جامۂ احرام بہت ہے
- جوں جادہ سر بہ کوئے تمناۓ بے دلی
- اے بہ ضبط حال نا افسردگاں جوش جنوں
- بہ حکم عجز ابروئے مہ نو حیرت ایما ہے
- گزری نہ بہ ہر حال یہ مدت خوش و نا خوش
- منہ نہ دکھلاوے نہ دکھلا پر بہ انداز عتاب
- بہ صورت تکلف بہ معنی تأسف
- بہ وقت سرنگونی ہے تصور انتظارستاں
- پنجۂ مژگاں بہ خود بالیدنی رکھتا ہے آج
- خوش اوفتادگی کہ بہ صحراۓ انتظار
- وحشت بہ داغ سایۂ بال ہما کروں
- وو راز نالہ ہوں کہ بہ شرح نگاۂ عجز
- لذت سنگ بہ اندازۂ تقریر نہیں
- خوابیدہ بہ حیرت کدۂ داغ ہیں آہیں
- پھر بھر رہا ہوں خامۂ مژگاں بہ خون دل
- بہ باغ رنگ ہائے رفتہ گل چین تماشا ہے
- بہ سعی غیر ہے قطع لباس خانہ ویرانی
- بہ بزم مے پرستی حسرت تکلیف بیجا ہے
- کہ جام بادہ کف بر لب بہ تکلیف تقاضا ہے
- کہ مژگاں جس طرف وا ہو بہ کف دامان صحرا ہے
- بہ جولاں گاۂ نومیدی نگاۂ عاجزاں پا ہے
- بہ سختی ہائے قید زندگی معلوم آزادی
- مستی بہ ذوق غفلت ساقی ہلاک ہے
- یعنی بہ حسب گردش پیمانۂ صفات
- تری طرف ہے بہ حسرت نظارۂ نرگس
- بہ کوری دل و چشم رقیب ساغر کھینچ
- بہ نیم غمزہ ادا کر حق ودیعت ناز
- نقش ناز بت طناز بہ آغوش رقیب
- شانہ ساں مو بہ زباں خامۂ مانی مانگے
- بہ قدر شوق نہیں ظرف تنگنائے غزل
- بہ انداز حنا ہے رونق دست چنار آتش
- بہ رہن ضبط ہے آئینہ بندیٔ گوہر
- اسدؔ بہ نازکیٔ طبع آرزو انصاف
- اے ترا ظلم سر بہ سر انداز
- کف سیلاب باقی ہے بہ رنگ پنبہ روزن میں
- داغ اطفال ہے دیوانہ بہ کہسار ہنوز
- راز مکتوب بہ بے ربطی عنواں سمجھا
- پا بہ دامن ہو رہا ہوں بسکہ میں صحرا نورد
- یاد مژگاں میں بہ نشتر زار سودائے خیال
- کر دیا ہے پا بہ زنجیر رم آہو مجھے
- بہ خوں غلتیدۂ صد رنگ دعویٰ پارسائی کا
- بہ مہر صد نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا
- بہ جیب ہر نگہ پنہاں ہے حاصل رہنمائی کا
- بہ عجز آباد وہم مدعا تسلیم شوخی ہے
- بہ جیب آرزو پنہاں ہے حاصل دل ربائی کا
- چاک کی خواہش اگر وحشت بہ عریانی کرے
- نالۂ دل نغمہ ریزاں ہے بہ مضراب خیال
- داغ پشت دست عجز شعلہ خس بہ دنداں ہے
- گل بہ کوہ از لالہ بزم ساز بیتابی
- یاس کو دو عالم سے لب بہ خندہ وا پایا
- برہم ہے بزم غنچہ بہ یک جنبش نشاط
- گلشن میں بندوبست بہ رنگ دگر ہے آج
- تا صبح ہے بہ منزل مقصد رسیدنی
- نہ کہہ کہ گریہ بہ مقدار حسرت دل ہے
- بہ سیل اشک لخت دل ہے دامن گیر مژگاں کا
- خموشی ریشۂ صد نیستاں سے خس بہ دنداں ہے
- درس عنوان تماشا بہ تغافل خوشتر
- اشک سحاب جز بہ وداع خزاں نہیں
- جز عجز کیا کروں بہ تمنائے بے خودی
- ضبط سے مطلب بہ جز وارستگی دیگر نہیں
- واں رنگ ہا بہ پردۂ تدبیر ہیں ہنوز
- جز دل سراغ درد بہ دل خفتگاں نہ پوچھ
- رکھتا ہو مثل سایۂ گل سر بہ پائے گل
- بہ سخن اوج وہ مرتبۂ معنی و لفظ
- بہ کرم داغ نہ ناصیۂ قلزم و نیل
- ناطقہ سر بہ گریباں کہ اسے کیا کہیے
- اس کو کرتے ہیں بہت بڑھ کے بہ اغراق رقم
- اولاً عمر طبیعی بہ دوام اقبال
- بہ امید سعادت افزائی
- بہ گمان قطع زحمت نہ دو چار خامشی ہو
- بہ فریب آشنائی بہ خیال بے وفائی
- بہ فراز گاہ عبرت چہ بہارو کو تماشا
- کہ نگاہ ہے سیہ پوش بہ عزاے زندگانی
- بہ فراق رفتہ یاراں خط و حرف مو پریشاں
- کہ نہ دے عنان فرصت بہ کشاکش زبانی
- بہ شکنج جستجوہا بہ سراب گفتگو ہا
- تگ و تاز آرزو ہا بہ فریب شادمانی
- اگر آرزو ہے راحت تو عبث بہ خوں تپیدن
- کہ خیال ہو تعب کش بہ ہواے کامرانی
- جو بہ صورت چراغاں کرے شعلہ نرد بانی
- خم پشت خوشنما تھا بہ گزارش جوانی
- وہ اجل کہ خوں بہا ہو بہ شہید ناتوانی
- غم عجز کا سفینہ بہ کنار بیدلی ہے
- دل نا امید کیونکر بہ تسلی آشنا ہو
- جو امیدوار رہیے نہ بہ مرگ ناگہانی
- مجھے بادۂ طرب سے بہ خمار گاہ قسمت
- بہ ہزار امیدواری رہی ایک اشک باری
- کف موجۂ حیا ہوں بہ گزار عرض مطلب
- کہ سر شک قطرہ زن ہے بہ پیام دل رسانی
- صورت نقش قدم خاک بہ فرق تمکیں
- اس کی شوخی سے بہ حیرت کدہ نقش خیال
- تجھ میں اور غیر میں نسبت ہے و لیکن بہ تضاد
- تو وا کرے اس عقدے کو سو بھی بہ اشارت
- دل اس کا پھوڑ کے نکلے بہ شکل پھوڑے کے
- تب کہا ہے بہ طرز استفہام
- جز بہ تقریب عید ماہ صیام
- اور ان اوراق میں بہ کلک قضا
- ستارہ جیسے چمکتا ہوا بہ پہلوے ماہ
- مستی باد صبا سے ہے بہ عرض سبزہ
- سینہ بے تابی سے ملتا ہے بہ تیغ کہسار
- چشم بر چشم چنے ہے بہ تماشا مجنوں
- بھول جا یک قدح بادہ بہ طاق گلزار
- موج گل ڈھونڈھ بہ خلوت کدۂ غنچۂ باغ
- سبز ہے موج تبسم بہ ہواے گفتار
- بہ نظر گاہ گلستان خیال ساقی
- بہ ہواے چمن جلوہ ہے طاؤس پرست
- سایۂ تیغ کو دیکھ اس کے بہ ذوق یک زخم
- ذوق تسلیم تمنا سے بہ گلزار حضور
- عرض تسخیر تماشا سے بہ دام اظہار
- ذوق میں جلوے کے تیرے بہ ہواے دیدار
- پرورش پائی ہے جوں غنچہ بہ خون اظہار
- تشنۂ خون دو عالم ہوں بہ عرض تکرار
- بخیۂ زخم دل چاک بہ یک دستہ شرار
- ہوں نفس سے صفت نغمہ بہ بند رگ تار
- سازہا مفت بہ ریشم کدۂ نالۂ زار
- ہوں بہ قدر عدد حرف علی سبحہ شمار
- کہ رہے خون خزاں سے بہ حنا پاے بہار
- ہر پارۂ دل بہ رنگ دیگر ہے آج
- یہ ہمیشہ بہ صد نشاط و سرور
- وہ خط سبز ہے کہ بہ رخسار سادہ ہو
- کی تصور نے بہ صحرائے ہوس راہ غلط