بھی
317 Misre
- یہ بھی یا حضرت ایوب گلا ہے تو سہی
- میں بھی ہوں محرم اسرار کہوں یا نہ کہوں
- ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
- شرر بھی صید دام رشتۂ رگ ہاے خارا ہے
- اسدؔ خوباں بھی دور چرخ سے رنجیدہ خاطر ہیں
- زندگی سے بھی مرا جی ان دنوں بیزار ہے
- ایک جا حرف وفا لکھا تھا سو بھی مٹ گیا
- ہم نے سو زخم جگر پر بھی زباں پیدا نہ کی
- صبح بہار بھی قفس رنگ و بو نہ ہو
- زلف سیاہ بھی شب مہتاب ہو گئی
- مے خانہ جگر میں یہاں خاک بھی نہیں
- نگاہ شوق کو صحرا بھی دیوان غزالی ہے
- کہ یہ نامرد بھی شیر افگن میدان قالی ہے
- میں آپ سے جا چکا ہوں اب بھی
- بجائے خود وگر نہ سرد بھی میناے خالی ہے
- کہ بعد مرگ بھی ہے لذت جگر سوزی
- تپش تو کیا نہ ہوئی مشق پرفشانی بھی
- اسدؔ کی طرح میری بھی بغیر از صبح رخساراں
- ہے زر گل بھی نظر میں جوہر فولاد یاں
- دل لگا کر لگ گیا ان کو بھی تنہا بیٹھنا
- ریشۂ زیر زمیں کو بھی دویدن منع ہے
- پر فشانی بھی فریب خاطر آسودہ ہے
- کارخانے سے جنوں کے بھی میں عریاں نکلا
- تیر بھی سینۂ بسمل سے پر افشاں نکلا
- دیکھ لی جوش جوانی کی ترقی بھی کہ اب
- میں بھی رک رک کے نہ مرتا جو زباں کے بدلے
- ہمیشہ مجھ کو طفلی میں بھی مشق تیرہ روزی تھی
- ہوا شرم تہہ دستی سے وہ بھی سر نگوں آخر
- کم جانتے تھے ہم بھی غم عشق کو پر اب
- کل ہے جو وعدۂ وصال آج بھی اے خدا سمجھ
- وہ بے دماغ جس کو ہوس بھی تپاک ہے
- دل کے ٹکڑے بھی کئی خون کے شامل آئے
- آج ہم حضرت نواب سے بھی مل آئے
- خلد بھی باغ ہے خیر آب و ہوا اور سہی
- نالاں ہو اسدؔ تو بھی سر راہ گزر پر
- آئینہ نفس سے بھی ہوتا ہے کدورت کش
- یہ کاسۂ زانو بھی اک جام گدائی ہے
- بہ قدر ظرف ہے ساقی خمار تشنہ کامی بھی
- عرق بھی جن کے عارض پر بہ تکلیف حیا گم ہو
- کل تلک تیرا بھی دل مہر و وفا کا باب تھا
- نامہ بھی لکھتے ہو تو بخط غبار حیف
- پائی جگہ بھی دل میں تو ہو کر غبار حیف
- خمار ضبط سے بھی نشۂ اظہار پیدا ہے
- ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوں
- جاں لب پہ آئی تو بھی نہ شیریں ہوا دہن
- بادباں بھی اٹھتے ہی لنگر کھلا
- پیری میں بھی کمی نہ ہوئی تاک جھانک کی
- میں بھی ہوں شمع کشتہ گر داغ خوں بہا ہے
- بت خانے میں اسدؔ بھی بندہ گاہ گاہے
- تعجب سے وہ بولا یوں بھی ہوتا ہے زمانے میں
- کل تلک تیرا بھی دل مہرو وفا کا باب تھا
- کبھی تو اس سر شوریدہ کی بھی داد ملے
- بس کہ ہوں بعد مرگ بھی نگراں
- واں تو میرے نالے کو بھی اعتبار نغمہ ہے
- ہوں میں بھی تماشائی نیرنگ تمنا
- صحرا کو بھی گھر سے کئی فرسنگ نکالوں
- جنون قیس سے بھی شوخی لیلیٰ نمایاں ہے
- ہے زمیں از بس کہ سنگیں جادہ بھی پیدا نہیں
- نہ دیجے پاس ضبط آبرو وقت شکستن بھی
- ضعف جنوں کو وقت تپش در بھی دور تھا
- حضرت بھی کل کہیں گے کہ ہم کیا کیا کیے
- خوں بھی ذوق درد سے فارغ مرے تن میں نہیں
- قد کے جھکنے کی بھی گنجائش مرے تن میں نہیں
- ضعف جنوں کو وقت تپش در بھی دور تھا
- ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے
- یا رب ہمیں تو خواب میں بھی مت دکھائیو
- میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہوتے تک
- سات دن ہم پہ بھی بھاری ہیں سحر ہوتے تک
- کم جانتے تھے ہم بھی غم عشق کو پر اب
- ایک جا حرف وفا لکھا تھا سو بھی مٹ گیا
- زندگی سے بھی مرا جی ان دنوں بے زار ہے
- بساط عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی
- سو رہتا ہے بہ انداز چکیدن سرنگوں وہ بھی
- تکلف بر طرف تھا ایک انداز جنوں وہ بھی
- مرے دام تمنا میں ہے اک صید زبوں وہ بھی
- کہ ہوگا باعث افزائش درد دروں وہ بھی
- مرے دریائے بے تابی میں ہے اک موج خوں وہ بھی
- لیے بیٹھا ہے اک دو چار جام واژ گوں وہ بھی
- خدا وہ دن کرے جو اس سے میں یہ بھی کہوں وہ بھی
- کہیں ہو جائے جلد اے گردش گردون دوں وہ بھی
- کہ میری خواب بندی کے لیے ہوگا فسوں وہ بھی
- آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
- جوہر آئنہ بھی چاہے ہے مژگاں ہونا
- سر سے گزرے پہ بھی ہے بال ہما موج شراب
- یقیں ہے ہم کو بھی لیکن اب اس میں دم کیا ہے
- نامہ بھی لکھتے ہو تو بہ خط غبار حیف
- پائی جگہ بھی دل میں تو ہو کر غبار حیف
- تیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئے
- تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جا
- تم کو بھی ہم دکھائیں کہ مجنوں نے کیا کیا
- اگر پہلو تہی کیجے تو جا میری بھی خالی ہے
- نگاہ شوق کو صحرا بھی دیوان غزالی ہے
- کہ یہ نامرد بھی شیر افگن میدان قالی ہے
- دلا یہ درد و الم بھی تو مغتنم ہے کہ آخر
- کہ خار خشک کو بھی دعواۓ چمن نسبی ہے
- مجھ کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہو
- کیا وہ بھی بے گنہ کش و حق ناشناس ہیں
- غالبؔ بھی گر نہ ہو تو کچھ ایسا ضرر نہیں
- تو دوست کسو کا بھی ستم گر نہ ہوا تھا
- میرا سر دامن بھی ابھی تر نہ ہوا تھا
- ہم بھی مضموں کی ہوا باندھتے ہیں
- ہم بھی ایک اپنی ہوا باندھتے ہیں
- آبلوں پر بھی حنا باندھتے ہیں
- قید میں بھی ہے اسیری آزاد
- گرچہ دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا
- ہم نے دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا
- کچھ تجھ کو مزا بھی مرے آزار میں آوے
- پس از مردن بھی دیوانہ زیارت گاہ طفلاں ہے
- کہاں ہم بھی رگ و پے رکھتے ہیں انصاف بہتر ہے
- فقیری میں بھی باقی ہے شرارت نوجوانی کی
- جب نہ ہو کچھ بھی تو دھوکا کھائیں کیا
- میں بھی جلے ہوؤں میں ہوں داغ نا تمامی
- ہے شرح شوق کو بھی جوں شکوہ ناتمامی
- ہے یاس میں اسدؔ کو ساقی سے بھی فراغت
- بہ قدر حسرت دل چاہیے ذوق معاصی بھی
- کہ تار جادہ بھی کہسار کو زنار مینا ہو
- لو وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بے ننگ و نام ہے
- کیا آسمان کے بھی برابر نہیں ہوں میں
- بندگی میں بھی وہ آزادہ و خودبیں ہیں کہ ہم
- دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا
- عمر کو بھی تو نہیں ہے پائیداری ہائے ہائے
- موج خرام یار بھی کیا گل کتر گئی
- نظارہ نے بھی کام کیا واں نقاب کا
- دل لگا کر لگ گیا ان کو بھی تنہا بیٹھنا
- ہے زر گل بھی نظر میں جوہر فولاد یاں
- میں عدم سے بھی پرے ہوں ورنہ غافل بارہا
- میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں
- اڑنے سے پیشتر بھی مرا رنگ زرد تھا
- دل بھی اگر گیا تو وہی دل کا درد تھا
- زنداں میں بھی خیال بیاباں نورد تھا
- یہ زمرد بھی حریف دم افعی نہ ہوا
- وہ ستم گر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا
- ہوں ترے وعدہ نہ کرنے میں بھی راضی کہ کبھی
- ہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں سو وہ بھی نہ ہوا
- دیوانگی سے دوش پہ زنار بھی نہیں
- یعنی ہمارے جیب میں اک تار بھی نہیں
- دیکھا تو ہم میں طاقت دیدار بھی نہیں
- دشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں
- طاقت بقدر لذت آزار بھی نہیں
- صحرا میں اے خدا کوئی دیوار بھی نہیں
- یاں دل میں ضعف سے ہوس یار بھی نہیں
- آخر نوائے مرغ گرفتار بھی نہیں
- حالانکہ طاقت خلش خار بھی نہیں
- لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
- دیوانہ گر نہیں ہے تو ہشیار بھی نہیں
- وائے واں بھی شور محشر نے نہ دم لینے دیا
- گر حیا بھی اس کو آتی ہے تو شرما جائے ہے
- نقش کو اس کے مصور پر بھی کیا کیا ناز ہیں
- ذکر میرا بہ بدی بھی اسے منظور نہیں
- قطرہ اپنا بھی حقیقت میں ہے دریا لیکن
- دشمن بھی جس کو دیکھ کے غم ناک ہو گئے
- تجھے کہ آئنہ بھی ورطۂ ملامت ہے
- کیا مزہ ہوتا اگر پتھر میں بھی ہوتا نمک
- ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
- میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
- یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاں
- واں گیا بھی میں تو ان کی گالیوں کا کیا جواب
- نہ آئی سطوت قاتل بھی مانع میرے نالوں کو
- اسدؔ کی طرح میری بھی بغیر از صبح رخساراں
- بقدر ظرف ہے ساقی خمار تشنہ کامی بھی
- اتنا بھی اے فلک زدہ کیوں بد حواس ہے
- اے پرتو خورشید جہاں تاب ادھر بھی
- ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد
- قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا
- تیر بھی سینۂ بسمل سے پرافشاں نکلا
- سخت مشکل ہے کہ یہ کام بھی آساں نکلا
- کارخانے سے جنوں کے بھی میں عریاں نکلا
- آخر اے عہد شکن تو بھی پشیماں نکلا
- میں بھی معذور جنوں ہوں اسدؔ اے خانہ خراب
- یہ بھی مت کہہ کہ جو کہیے تو گلہ ہوتا ہے
- یہ بھی تیرا ہی کرم ذوق فزا ہوتا ہے
- ہوا جام زمرد بھی مجھے داغ پلنگ آخر
- اسدؔ پردے میں بھی آہنگ شوق یار قائم ہے
- اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے
- وگرنہ ہم بھی اٹھاتے تھے لذت الم آگے
- اب جفا سے بھی ہیں محروم ہم اللہ اللہ
- ہم کو جینے کی بھی امید نہیں
- ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنے
- ہم بھی تسلیم کی خو ڈالیں گے
- غم دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی
- ہے قہر گر اب بھی نہ بنے بات کہ ان کو
- ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کو نہ جانے
- اس کی تو خامشی میں بھی ہے یہی مدعا کہ یوں
- یہ بھی حلقے ہیں تمہارے دام کے
- ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
- مے خانۂ جگر میں یہاں خاک بھی نہیں
- قفس میں ہوں گر اچھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو
- تعجب سے وہ بولا یوں بھی ہوتا ہے زمانے میں
- بچوں کا بھی دیکھا نہ تماشا کوئی دن اور
- نہ چھوڑی حضرت یوسف نے یاں بھی خانہ آرائی
- ہمارا بھی تو آخر زور چلتا ہے گریباں پر
- مثل گل زخم ہے میرا بھی سناں سے توام
- جیب خیال بھی ترے ہاتھوں سے چاک ہے
- عاشق ہوئے ہیں آپ بھی ایک اور شخص پر
- شب ہائے ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں
- غالبؔ چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی
- کعبے سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی
- آؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہ طور کی
- میں بھی رُک رُک کے نہ مرتا ۔۔۔جو زباں کے بدلے
- میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں
- بات کچھ سر تو نہیں ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں
- کیا قسم ہے ترے ملنے کی کہ کھا بھی نہ سکوں
- اس قدر ضبط کہاں ہے کبھی آ بھی نہ سکوں
- ستم اتنا تو نہ کیجے کہ اٹھا بھی نہ سکوں
- شعلۂ دل تو نہیں ہے کہ بجھا بھی نہ سکوں
- موت کچھ تم تو نہیں ہو کہ بلا بھی نہ سکوں
- کیا تصور ہے تمہارا کہ مٹا بھی نہ سکوں
- دل بھی یارب کئی دیے ہوتے
- کوئی دن اور بھی جیے ہوتے
- کم نہیں وہ بھی خرابی میں پہ وسعت معلوم
- واں تو میرے نالے کو بھی اعتبار نغمہ ہے
- بسکہ ہوں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیر پا
- رکھوں کچھ اپنی بھی مژگان خوں فشاں کے لیے
- رہا بلا میں بھی میں مبتلائے آفت رشک
- دیا ہے خلق کو بھی تا اسے نظر نہ لگے
- کاش یوں بھی ہو کہ بن میرے ستائے نہ بنے
- وہ بھی دن ہو کہ اس ستم گر سے
- امتحاں اور بھی باقی ہو تو یہ بھی نہ سہی
- کبھی جو یاد بھی آتا ہوں میں تو کہتے ہیں
- علاوہ عید کے ملتی ہے اور دن بھی شراب
- جان کر کیجے تغافل کہ کچھ امیدؔ بھی ہو
- ہم وہ عاجز کہ تغافل بھی ستم ہے ہم کو
- طاقت رنج سفر بھی نہیں پاتے اتنی
- ہجر یاران وطن کا بھی الم ہے ہم کو
- دل تو دل وہ دماغ بھی نہ رہا
- چاہیے درمان ریش دل بھی تیغ یار سے
- زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی
- کندھا بھی کہاروں کو بدلنے نہیں دیتے
- ہے شکستن سے بھی دل نومید یارب کب تلک
- بارے اب اس سے بھی سمجھا چاہیے
- کچھ ادھر کا بھی اشارا چاہیے
- چاہنے والا بھی اچھا چاہیے
- چشم خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہے
- اور پھر وہ بھی زبانی میری
- کبھی نیکی بھی اس کے جی میں گر آ جائے ہے مجھ سے
- عبارت مختصر قاصد بھی گھبرا جائے ہے مجھ سے
- تکلف بر طرف نظارگی میں بھی سہی لیکن
- وہ کافر جو خدا کو بھی نہ سونپا جائے ہے مجھ سے
- کبھی تو اس دل شوریدہ کی بھی داد ملے
- بو بھی اے چارہ گر نہیں آتی
- ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
- ہم بھی گئے واں اور تری تقدیر کو رو آئے
- بس چپ رہو ہمارے بھی منہ میں زبان ہے
- ہستی کا اعتبار بھی غم نے مٹا دیا
- فائدہ کیا سوچ آخر تو بھی دانا ہے اسدؔ
- ہوس گل کے تصور میں بھی کھٹکا نہ رہا
- زندگی میں بھی رہا ذوق فنا کا مارا
- آئینہ نفس سے بھی ہوتا ہے کدورت کش
- یہ کاسۂ زانو بھی اک جام گدائی ہے
- گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگئ جا کا
- جانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر
- گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا
- جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگا
- پیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چار
- رہی نہ طاقت گفتار اور اگر ہو بھی
- بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
- وہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغ ستم نکلے
- ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے
- کبھی تو اس دل شوریدہ کی بھی داد ملے
- نغمہ ہائے غم کو بھی اے دل غنیمت جانیے
- ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا
- آپ آتے تھے مگر کوئی عناں گیر بھی تھا
- اس میں کچھ شائبۂ خوبی تقدیر بھی تھا
- کبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا
- ہاں کچھ اک رنج گراں باری زنجیر بھی تھا
- بات کرتے کہ میں لب تشنۂ تقریر بھی تھا
- گر بگڑ بیٹھے تو میں لائق تعزیر بھی تھا
- نالہ کرتا تھا ولے طالب تاثیر بھی تھا
- ہم ہی آشفتہ سروں میں وہ جواں میر بھی تھا
- آخر اس شوخ کے ترکش میں کوئی تیر بھی تھا
- آدمی کوئی ہمارا دم تحریر بھی تھا
- کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا
- ہوں میں بھی تماشائی نیرنگ تمنا
- یکبار امتحان ہوس بھی ضرور ہے
- خواری کو بھی اک عار ہے عالی نسبوں سے
- دو دن بھی جو کاٹے تو قیامت تعبوں سے
- ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
- ناچار بیکسی کی بھی حسرت اٹھائیے
- یاد ہے شادی میں بھی ہنگامۂ یا رب مجھے
- دل لگا کر آپ بھی غالبؔ مجھی سے ہو گئے
- یاں جادہ بھی فتیلہ ہے لالے کے داغ کا
- جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا
- گر چرخ بھی جل جائے تو پروا نہیں ہم کو
- بارے نوکر بھی ہو گیا صد شکر
- قسم لو ہم سے گر یہ بھی کہیں کیوں ہم نہ کہتے تھے
- خضر بھی یاں اگر آجائے تو لے ان کے قدم
- ہندوستان کی بھی عجب سر زمین ہے
- گو شرف خضر کی بھی مجھ کو ملاقات سے ہے
- کسی کو یاد بھی لقمان کا نہیں ہے نام
- یہ بھی اک بے ادبی تھی کہ قبا سے بڑھ جائے
- چاہیے پھولوں کا بھی ایک مقرر سہرا
- تو وا کرے اس عقدے کو سو بھی بہ اشارت
- تیری توقیع سلطنت کو بھی
- دل نے کہا کہ یہ بھی ہے تیرا خیال خام
- آیا تھا وقت ریل کے کھلنے کا بھی قریب
- گر کہوں بھی تو کس کو آئے یقیں
- ہے دعا بھی یہی کہ دنیا میں
- قوت نامیہ اس کو بھی نہ چھوڑے بیکار
- وہ بھی تھی اک سیمیا کی سی نمود
- ہے سوز جگر کا بھی اسی طور کا حال
- تھا موجد عشق بھی قیامت کوئی
- یہ بھی ناچار جی کا کھونا ہے
- خدا سے میں بھی چاہوں از رہ مہر
- سات دن ہم پہ بھی بھاری ہیں سحر ہونے تک
- اور سجادہ بھی گویا ہے وہی
- فارسی پگڑی کی بھی دستار ہے
- ہے زنخ ٹھوڑی ذقن بھی ہے وہی
- خاد ہے چیل اور زغن بھی ہے وہی
- سرزنش بھی فارسی جھڑکی کی ہے
- ہے ہراسیدن بھی ڈرنا کیوں ڈرو
- کاشتن بونا ہے اور کشتن بھی ہے
- کاتنے کی فارسی رشتن بھی ہے
- ہے نصیحت بھی وہی جو پند ہے
- پند کو اندرز بھی کہتے ہیں ہاں
- ارض ہے پر مرز بھی کہتے ہیں ہاں
- ہو تجلی برق کی صورت میں ہے یہ بھی غضب
- پاس میرے وہ جو آئے بھی تو بعد از نصف شب