بھر
17 Misre
- عمر بھر ایک ہی پہلو پہ سلاتا ہے مجھے
- عمر بھر ہوش نہ یک جا ہوے میرے کہ اسدؔ
- آگ بھڑکی منہ اگر دم بھر کھلا
- یہ رات بھر کا ہے ہنگامہ صبح ہونے تک
- عمر بھر دیکھا کیا مرنے کی راہ
- عمر بھر کا تو نے پیمان وفا باندھا تو کیا
- دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
- یہ عمر بھر جو پریشانیاں اٹھائی ہیں ہم نے
- پھر بھر رہا ہوں خامۂ مژگاں بہ خون دل
- تا پھر نہ انتظار میں نیند آئے عمر بھر
- نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
- وہ خوں جو چشم تر سے عمر بھر یوں دم بدم نکلے
- رکھ دیں چمن میں بھر کے مئے مشکبو کی ناند
- جو آئے جام بھر کے پیے اور ہو کے مست
- ناؤ بھر کر ہی پروئے گئے ہوں گے موتی
- تب بنا ہو گا اس انداز کا گز بھر سہرا
- بھر کے بھیجے ہیں سر بمہر گلاس