بوقت
8 Misre
بوقت کعبہ جوئی ہا جرس کرتا ہے ناقوسی
کو بوقت قتل حق آشنائی اے نگاہ
رکھ دیا پہلو بوقت اضطراب آئینے پر
خالی مجھے دکھلا کے بوقت سفر انگشت
گزرا جو آشیاں کا تصور بوقت بند
زبس نکلا غبار دل بوقت گریہ آنکھوں سے
لیکن اسدؔ بوقت گزشتن جریدہ ہوں
ہم سے کھل جاؤ بوقت مے پرستی ایک دن
ب
All Letters