بنے
26 Misre
- سد اسکندر بنے بہر نگاہ گل رخاں
- ترے کوچے میں بنے مشاطہ واماندگی قاصد
- ہے قہر گر اب بھی نہ بنے بات کہ ان کو
- تو بنے بو دیجیے میخانے کی دیوار کے پاس
- نہ تم کہ چور بنے عمر جاوداں کے لیے
- نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے
- کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے
- اس پہ بن جائے کچھ ایسی کہ بن آئے نہ بنے
- کاش یوں بھی ہو کہ بن میرے ستائے نہ بنے
- کوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے تو چھپائے نہ بنے
- ہاتھ آویں تو انہیں ہاتھ لگائے نہ بنے
- پردہ چھوڑا ہے وہ اس نے کہ اٹھائے نہ بنے
- تم کو چاہوں کہ نہ آؤ تو بلائے نہ بنے
- کام وہ آن پڑا ہے کہ بنائے نہ بنے
- کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے
- مے پرستاں خم مے منہ سے لگائے ہی بنے
- جو مدعی بنے اس کے نہ مدعی بنیے
- تاب لائے ہی بنے گی غالبؔ
- یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
- کہ آسماں پہ کواکب بنے تماشائی
- اگر آئینہ بنے حیرت صورت گرچیں
- ہزار دانے کی تسبیح چاہتا ہے بنے
- واں آسمان شیشہ بنے آفتاب جام
- بنے ہے شعلۂ آتش انیس پرۂ کاہ
- بنے گا شرق سے تا غرب اس کا بازی گاہ
- ہم گرچہ بنے سلام کرنے والے