بندہ
11 Misre
- سخن کا بندہ ہوں لیکن نہیں مشتاق تحسیں کا
- بت خانے میں اسدؔ بھی بندہ گاہ گاہے
- بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور کب تلک
- آپ کا بندہ اور پھروں ننگا
- بندہ پرور کے کف دست کو دل کیجیے فرض
- بندہ عاجز ہے گردش ایام
- تحریر ایک جس سے ہوا بندہ تلخ کام
- بندہ پرور ثنا طرازی سے
- خدا کا بندہ خداوندگار بندوں کا
- اس خداوند بندہ پرور کو
- بندہ خدا کا اور علی کا غلام ہوں