بند
35 Misre
- صد نالہ اسدؔ بلبل در بند زباں دانی
- عذار یار نظر بند چشم گریاں ہے
- رشتۂ فہمید ممسک ہے بہ بند کو تہی
- عدم وحشت سراغ و ہستی آئیں بند رنگینی
- گزرا جو آشیاں کا تصور بوقت بند
- نظر بند تصور ہے قفس میں لطف آزادی
- تکلف عافیت میں ہے دلا بند قبا وا کر
- بہ بند گریہ نقش بر آب اندیشہ رستن کا
- برنگ گل اگر شیرازہ بند بے خودی رہیے
- تکلف عاقبت میں ہے دلا بند قبا وا کر
- بہ بند گریہ ہے نقش بر آب امید رستن ہا
- سر خط بند ہوا نامہ گنہ گاروں کا
- اسدؔ بند قباے یار ہے فردوس کا غنچہ
- جوں برق ہے پیچیدگی بند قبا گرم
- آشیاں بند بہار عیش ہوں ہنگام قتل
- گریے سے بند محبت میں ہوئی نام آوری
- آئینہ بند خلوت و محفل ہے آئنہ
- چشم بند خلق جز تمثال خود بینی نہیں
- اس کی امت میں ہوں میں میرے رہیں کیوں کام بند
- مست کب بند قبا باندھتے ہیں
- تماشا کشور آئینہ میں آئینہ بند آیا
- قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
- غالبؔ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں
- تن بہ بند ہوس در ندادہ رکھتے ہیں
- وا کر دیے ہیں شوق نے بند نقاب حسن
- شرر در بند دام رشتۂ رگ ہائے خارا ہے
- سبد گل کے تلے بند کرے ہے گلچیں
- رشتۂ پا یاں نوا سامان بند ساز ہے
- سو بار بند عشق سے آزاد ہم ہوئے
- شفا ہو آپ کو غالبؔ کو بند غم سے نجات
- بچی نہ از پئے بند نقاب یار گرہ
- رعد کا کر رہی ہے کیا دم بند
- ہوں نفس سے صفت نغمہ بہ بند رگ تار
- غالبؔ منہ بند ہو گیا ہے گویا
- دل رک رک کر بند ہو گیا ہے غالبؔ