بنا
18 Misre
- حلقۂ گرداب جوہر کو بنا ڈالے تنور
- عینک چشم بنا روزن زنداں مجھ سے
- دل مدعی و دیدہ بنا مدعَی علیہ
- بنا ہے پنبۂ سینا سے ساقی نے نقاب اس کا
- بنا ہے تختۂ گل ہاے یاسمیں بستر
- جو بعد قتل مرا دشت میں مزار بنا
- دل مدعی و دیدہ بنا مدعا علیہ
- بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالبؔ
- منظر اک بلندی پر اور ہم بنا سکتے
- بنا ہے عیش تجمل حسین خاں کے لیے
- بنا ہے چرخ بریں جس کے آستاں کے لیے
- گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر
- عینک چشم بنا روزن زنداں مجھ سے
- گھر بنا ہے نمونہ زنداں کا
- تب بنا ہو گا اس انداز کا گز بھر سہرا
- پھر بنا چاہتا ہے ماہ تمام
- عزت پہ اہل نام کی ہستی کی ہے بنا
- مسجد کے زیر سایہ اک گھر بنا لیا ہے