بلا
34 Misre
- آئی اگر بلا تو جگہ سے ٹلے نہیں
- بلا گردان بے پروا خرامی ہاے یار آتش
- نصیب تیرہ بلا گردش آفریں ہے اسدؔ
- جس جا کہ پاے سیل بلا درمیاں نہیں
- شوق دیدار بلا آئنہ ساماں نکلا
- جان جائے تو بلا سے پہ کہیں دل آئے
- بلا گردان تمکین بتاں صد موجۂ گوہر
- کمیں گاہ بلا ہے ہوگیا شیشہ جہاں خالی
- دیکھتے تھے ہم بچشم خود وہ طوفان بلا
- جب نالہ خوں ہو غافل تاثیر کیا بلا ہے
- دیکھتے تھے ہم بچشم خود وہ طوفان بلا
- خانۂ آگہی خراب دل نہ سمجھ بلا سمجھ
- بلا سے ہیں جو یہ پیش نظر در و دیوار
- وہ سن کے بلا لیں یہ اجارا نہیں کرتے
- کس کے گھر جائے گا سیلاب بلا میرے بعد
- ہے کیا جو کس کے باندھئے میری بلا ڈرے
- وفور بلا ہے ہجوم وفا ہے
- معشوقی و بے حوصلگی طرفہ بلا ہے
- شوق دیدار بلا آئنہ ساماں نکلا
- مہرباں ہو کے بلا لو مجھے چاہو جس وقت
- موت کچھ تم تو نہیں ہو کہ بلا بھی نہ سکوں
- قہر ہو یا بلا ہو جو کچھ ہو
- بلا سے گر مژۂ یار تشنۂ خوں ہے
- رہا بلا میں بھی میں مبتلائے آفت رشک
- بلا گردان بے پروا خرامی ہائے یار آتش
- بلا سے آج اگر دن کو ابر و باد نہیں
- آئی اگر بلا تو جگہ سے ٹلے نہیں
- غم آغوش بلا میں پرورش دیتا ہے عاشق کو
- نقصاں نہیں جنوں میں بلا سے ہو گھر خراب
- جس جا کہ پائے سیل بلا درمیاں نہیں
- کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہے
- جناب قبلۂ حاجات اس بلا کش نے
- بلا مبالغہ درکار ہے ہزار گرہ
- مرے سر سے کالی بلا باندھتے ہیں