بغیر
21 Misre
- تیشے بغیر مر نہ سکا کوہ کن اسدؔ
- کچھ نہیں حاصل تعلق میں بغیر از کشمکش
- اسدؔ کی طرح میری بھی بغیر از صبح رخساراں
- دینے لگا ہے بوسہ بغیر التجا کیے
- تیشے بغیر مر نہ سکا کوہ کن اسدؔ
- غالبؔ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں
- اسدؔ کی طرح میری بھی بغیر از صبح رخساراں
- یعنی بغیر یک دل بے مدعا نہ مانگ
- گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر
- جانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر
- جانوں کسی کے دل کی میں کیونکر کہے بغیر
- لیوے نہ کوئی نام ستم گر کہے بغیر
- سر جائے یا رہے نہ رہیں پر کہے بغیر
- چھوڑے نہ خلق گو مجھے کافر کہے بغیر
- چلتا نہیں ہے دشنہ و خنجر کہے بغیر
- بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر
- سنتا نہیں ہوں بات مکرر کہے بغیر
- ظاہر ہے تیرا حال سب ان پر کہے بغیر
- اب گھر کو بغیر آگ لگائے نہیں بنتی
- کس سے ممکن ہے تری مدح بغیر از واجب
- محروم صدا رہا بغیر از یک تار