بعد
42 Misre
- کہ بعد مرگ بھی ہے لذت جگر سوزی
- بیابان فنا ہے بعد صحراے طلب غالبؔ
- کہ بعد از صاف مے ساغر میں دردبادہ آتا ہے
- بتان شوخ کی تمکین بعد از قتل کی حیرت
- گر بعد مرگ وحشت دل کا گلا کروں
- نفس بعد از وصال دوست تاواں ہے گستن کا
- نفس ہا بعد وصل دوست تاوان گستن ہا
- کہ غالب ہے کہ بعد از زاری بسیار ہو پیدا
- جو بعد قتل مرا دشت میں مزار بنا
- بس کہ ہوں بعد مرگ بھی نگراں
- یوں بعد ضبط اشک پھروں گر دیار کے
- بعد از وداع یار بخوں در تپیدہ ہیں
- اشک بعد ضبط غیر از پنبۂ مینا نہیں
- کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
- اپنی گلی میں مجھ کو نہ کر دفن بعد قتل
- حسن غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعد
- بارے آرام سے ہیں اہل جفا میرے بعد
- ہوئی معزولی انداز و ادا میرے بعد
- شعلۂ عشق سیہ پوش ہوا میرے بعد
- ان کے ناخن ہوئے محتاج حنا میرے بعد
- نگہ ناز ہے سرمے سے خفا میرے بعد
- چاک ہوتا ہے گریباں سے جدا میرے بعد
- ہے مکرر لب ساقی پہ صلا میرے بعد
- کہ کرے تعزیت مہر و وفا میرے بعد
- کس کے گھر جائے گا سیلاب بلا میرے بعد
- بے خطر جیتے ہیں ارباب ریا میرے بعد
- متفرق ہوئے میرے رفقا میرے بعد
- اللہ رے ذوق دشت نوردی کہ بعد مرگ
- یوں بعد ضبط اشک پھروں گرد یار کے
- بعد از وداع یار بہ خوں در تپیدہ ہیں
- بیابان فنا ہے بعد صحراۓ طلب غالبؔ
- گر بعد مرگ وحشت دل کا گلہ کروں
- شرر ہے رنگ بعد اظہار تاب جلوۂ تمکیں
- اتنا ہی مجھ کو اپنی حقیقت سے بعد ہے
- بعد یک عمر ورع بار تو دیتا بارے
- مدح کے بعد دعا چاہیے اور اہل سخن
- تین دن مسہل سے پہلے تین دن مسہل کے بعد
- مہ و سال اشرف ہفتہ بعد نہیں
- بعد از اتمام بزم عید اطفال
- علی کے بعد حسن اور حسن کے بعد حسین
- خدا کے بعد نبیؐ اور نبیؐ کے بعد امام
- پاس میرے وہ جو آئے بھی تو بعد از نصف شب