بسکہ
30 Misre
- حسن خوباں بسکہ بے قدر تماشا ہے اسدؔ
- از بسکہ تلخیٔ غم ہجراں چشیدہ ہوں
- بسکہ ہیں ہم اک بہار ناز کے مارے ہوئے
- بسکہ ویرانی سے کفر و دیں ہوئے زیر و زبر
- صاف ہے از بسکہ عکس گل سے گلزار چمن
- بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
- بسکہ دوڑے ہے رگ تاک میں خوں ہو ہو کر
- بسکہ رکھتی ہے سر نشو و نما موج شراب
- بسکہ ہے وہ قبلۂ آئینہ محو اختراع
- نوک ہر خار سے تھا بسکہ سر دزدیٔ زخم
- ز بسکہ جلوۂ صییاد حیرت آرا ہے
- بسکہ شوق آتش گل سے سراپا جل گیا
- ز بسکہ مشق تماشا جنوں علامت ہے
- بسکہ روکا میں نے اور سینے میں ابھریں پے بہ پے
- خود فروشی ہاۓ ہستی بسکہ جاۓ خندہ ہے
- بسکہ ہیں بد مست بشکن بشکن مے خانہ ہم
- بسکہ ہر یک موئے زلف افشاں سے ہے تار شعاع
- بسکہ وہ چشم و چراغ محفل اغیار ہے
- قطرۂ مے بسکہ حیرت سے نفس پرور ہوا
- طفل شوخ غنچۂ گل بسکہ ہے وحشی مزاج
- ہیں بسکہ جوش بادہ سے شیشے اچھل رہے
- تغافل مشربی سے ناتمامی بسکہ پیدا ہے
- دیکھ کر تجھ کو چمن بسکہ نمو کرتا ہے
- بسکہ ہوں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیر پا
- پا بہ دامن ہو رہا ہوں بسکہ میں صحرا نورد
- بسکہ لیلائے سخن محمل نشین راز ہے
- کاشانہ بسکہ تنگ ہے غافل ہوا نہ مانگ
- بسکہ تھی فصل خزان چمنستان سخن
- کرتا ہے بسکہ باغ میں تو بے حجابیاں
- ہے بسکہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور