بسمل
31 Misre
- ورنہ بسمل کا تڑپنا لغزش مستانہ تھا
- چشم گریاں بسمل شوق بہار دید ہے
- اسدؔ بسمل ہے کس انداز کا قاتل سے کہتا ہے
- بسمل ذوق پریدن ہے بہ بال عندلیب
- قطرہ ہاے خون بسمل زیب داماں ہیں اسدؔ
- یاں سراغ عافیت جز دیدۂ بسمل نہ پوچھ
- تیر بھی سینۂ بسمل سے پر افشاں نکلا
- لطف نظارۂ قاتل دم بسمل آئے
- بے تماشا نہیں جمعیت چشم بسمل
- زبس خوں گشتۂ رشک وفا تھا وہم بسمل کا
- دو عالم دیدۂ بسمل چراغاں جلوہ پیمائی
- وحشت نہ کھینچ قاتل حیرت نفس ہے بسمل
- ہے بسمل اداے چمن عارضاں بہار
- نامۂ شوق بہ بال پر بسمل باندھا
- بسمل درد خفتہ ہوں گریے کو ماجرا سمجھ
- جوں قمری بسمل تپش آہنگ نکالوں
- بسمل اس تیغ دو دستی کا نہیں بچتا اسدؔ
- در پردۂ ہوا پر بسمل ہے آئنہ
- جوہر آئنہ کو طوطی بسمل باندھا
- نامۂ شوق بہ حال دل بسمل باندھا
- اسدؔ بسمل ہے کس انداز کا قاتل سے کہتا ہے
- قطرہ ہائے خون بسمل زیب داماں ہیں اسدؔ
- ز بس خوں گشتۂ رشک وفا تھا وہم بسمل کا
- کہ انداز بہ خوں غلتیدن بسمل پسند آیا
- روانی ہائے موج خون بسمل سے ٹپکتا ہے
- سواد چشم بسمل انتخاب نقطہ آرائی
- تیر بھی سینۂ بسمل سے پرافشاں نکلا
- یاں عرصۂ طپیدن بسمل نہیں رہا
- عیش بسمل کدۂ عید حریفاں معلوم
- یک جہاں بسمل انداز پر افشانی ہے
- دید یک غنچہ سے ہوں بسمل نقصان بہار