بستر
28 Misre
- بذوق شوخی اعضا تکلف بار بستر ہے
- معاف پیچ و تاب کشمکش ہر تار بستر ہے
- گداز شمع محفل پیچش طومار بستر ہے
- بہ پائے خفتہ سیر وادی پر خار بستر ہے
- خار پیراہن رگ بستر کو نشتر ہو گیا
- سایۂ افتادگی بالین و بستر ہوں اسدؔ
- رگ بستر کو ملی شوخی مژگاں مجھ سے
- پہلوے اندیشہ وقف بستر سنجاب تھا
- بنا ہے تختۂ گل ہاے یاسمیں بستر
- پہلوئے اندیشہ وقف بستر سنجاب تھا
- جتنے عرصے میں مرا لپٹا ہوا بستر کھلا
- تپش سے میری وقف کشمکش ہر تار بستر ہے
- مرا سر رنج بالیں ہے مرا تن بار بستر ہے
- دل بے دست و پا افتادہ بر خوردار بستر ہے
- فروغ شمع بالیں طالع بیدار بستر ہے
- شعاع آفتاب صبح محشر تار بستر ہے
- ہماری دید کو خواب زلیخا عار بستر ہے
- کہ بیتابی سے ہر یک تار بستر خار بستر ہے
- بذوق شوخیٔ اعضا تکلف بار بستر ہے
- معاف پیچ و تاب کشمکش ہر تار بستر ہے
- گداز شمع محفل پیچش طومار بستر ہے
- بہ پائے خفتہ سیر وادیٔ پر خار بستر ہے
- کیا ہے کس نے اشارا کہ ناز بستر کھینچ
- بے خودی بستر تمہید فراغت ہو ۔۔۔جو
- رگ بستر کو ملی شوخیٔ مژگاں مجھ سے
- گلخن شرر اہتمام بستر ہے آج
- اصل بستر ہے سمجھ لو تم ذرا
- ورنہ بستر کہتے ہیں برنا و پیر