بساط
19 Misre
- عالم جہاں بعرض بساط وجود تھا
- دریا بساط دعوت سیلاب ہے اسدؔ
- میں دور گرد قرب بساط نگاہ تھا
- بساط ہیچ کسی میں برنگ ریگ رواں
- اے ہوس عرض بساط ناز مشتاقی نہ مانگ
- نقش عبرت در نظر یا نقد عشرت در بساط
- عرض بساط انجمن رنگ مفت ہے
- طاقت بساط دستگہ یک قدم نہیں
- جلوۂ گل واں بساط صحبت احباب تھا
- بساط عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی
- عالم جہاں بہ عرض بساط وجود تھا
- جلوۂ گل واں بساط صحبت احباب تھا
- اے تازہ واردان بساط ہوائے دل
- یا شب کو دیکھتے تھے کہ ہر گوشۂ بساط
- نقش عبرت در نظر یا نقد عشرت در بساط
- میں دور گرد قرب بساط نگاہ تھا
- ہر گوشۂ بساط ہے سر شیشہ باز کا
- باغ شگفتہ تیرا بساط نشاط دل
- ایک وفا و مہر میں تازگی بساط دہر