بس
87 Misre
- از بس کہ صرف قطرہ زنی تھا بسان اشک
- بس کہ ہے عبرت ادیب یادگی ہاے ہوس
- بس کہ ہے اصل دمیدن ہا غبار
- بس کہ عاجز نارسائی سے کبوتر ہو گیا
- بس کہ آئینے نے پایا گرمی رخ سے گداز
- بس کہ وقت گریہ نکلا تیرہ کاری کا غبار
- بس کہ چشم از انتظار خوش خطاں بے نور ہے
- بزم خوباں بس کہ جوش جلوہ سے پر نور ہے
- بس کہ ہے میخانہ ویراں جوں بیابان خراب
- بس کہ شرم عارض رنگیں سے حیرت جلوہ ہے
- بس کہ حیرت سے زپا افتادۂ زنہار ہے
- بس کہ ویرانی سے کفر و دیں ہوے زیر و زبر
- بس کہ جوش گریہ سے زیر و زبر ویرانہ تھا
- بس کہ مائل ہے وہ رشک ماہتاب آئینے پر
- بس کہ مے پیتے ہیں ارباب فنا پوشیدہ
- بس کہ سوداے خیال زلف وحشت ناک ہے
- بس کہ وہ پا کو بیاں در پردۂ وحشت ہیں یاد
- بس کہ ہیں در پردہ مصروف سیہ کاری تمام
- بس کہ زیر خاک با آب طراوت راہ ہے
- بس کہ ہیں بدمست بشکن بشکن میخانہ ہم
- بس کہ ہریک موے زلف افشاں سے ہے تار شعاع
- بس کہ وہ چشم و چراغ محفل اغیار ہے
- بس کہ ہیں بے خود و دا رفتہ و حیراں گل و صبح
- محتسب سے تنگ ہے از بس کہ کار مے کشاں
- قیس نے از بس کہ کی سیر گریباں نفس
- خاک عاشق بس کہ ہے فرسودۂ پرواز شوق
- دشت الفت میں ہے خاک کشتگاں محبوس و بس
- پیچ تاب جادہ ہے خط کف افسوس و بس
- پیچک مہ صرف چاک پردۂ فانوس و بس
- کاسۂ زانو ہے مجھ کو بیضۂ طاؤس و بس
- راہ صحراے حرم میں ہے جرس ناقوس و بس
- غنچۂ خاطر رہا افسردگی مانوس و بس
- گرم تکلیف دل رنجیدہ ہے از بس کہ چرخ
- ہوئی ہے سوزش دل بس کہ داغ بے اثری
- حاصل دلبستگی ہے عمر کو نہ اور بس
- ہوئی ہے بس کہ صرف مشق تمکین بہار آتش
- بس رہتے ہیں باریکی و نرمی ہے کہ جوں گل
- آتی نہیں پنجے میں بس اس کے نظر انگشت
- آتی نہیں پنجہ میں بس اس کے نظر انگشت
- پیمایش زمین رہ عمر بس تمام
- طفل شوخ غنچۂ گل بس کہ ہے وحشی مزاج
- دیکھ کر تجھ کو چمن بس کہ نمو کرتا ہے
- بس اے زخم جگر اب دیکھ لی شورش نمکداں کی
- اسدؔ از بس کہ فوج درد و غم سر گرم جولاں ہے
- حیرت سے ترے جلوے کی از بس کہ ہیں بے کار
- خود فروشی ہاے ہستی بس کہ جاے خندہ ہے
- از بس کہ ہے محو بہ چمن تکیہ زدن ہا
- بس کہ بے پایاں ہے صحراے محبت اے اسدؔ
- موت بس ان کی ہے جو مر کے وہیں دفن ہوئے
- بیباک ہوں از بس کہ بہ بازار محبت
- روتا ہوں بس کہ در ہوس آرمیدگی
- بس کہ شرمندۂ بوے خوش گل رویاں ہے
- بس کہ ہوں بعد مرگ بھی نگراں
- بس کہ ہے صیاد راہ عشق میں محو کمیں
- بس کہ تیرے جلوۂ دیدار کا ہے اشتیاق
- تغافل مشربی سے ناتمامی بس کہ پیدا ہے
- بس کہ خوباں باغ کو دیتے ہیں وقت مے شکست
- ہے زمیں از بس کہ سنگیں جادہ بھی پیدا نہیں
- آتی نہیں پنجہ میں بس اس کے نظر انگشت
- ہے ردیف شعر میں غالبؔ ز بس تکرار دوست
- بس کہ حیرت سے ز پا افتادۂ زنہار ہے
- ہے نزاکت بس کہ فصل گل میں معمار چمن
- بس کہ پائی یار کی رنگیں ادائی سے شکست
- جلوہ از بس کہ تقاضائے نگہ کرتا ہے
- ہے تصور میں ز بس جلوہ نما موج شراب
- اٹھیے بس اب کہ لذت خواب سحر گئی
- دھوئے گئے ہم اتنے کہ بس پاک ہو گئے
- کی ایک ہی نگاہ کہ بس خاک ہو گئے
- بس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کف قاتل میں ہے
- بس ہجوم ناامیدی خاک میں مل جائے گی
- ز بس خوں گشتۂ رشک وفا تھا وہم بسمل کا
- فقط خراب لکھا بس نہ چل سکا قلم آگے
- ہوئی ہے بس کہ صرف مشق تمکین بہار آتش
- بس چپ رہو ہمارے بھی منہ میں زبان ہے
- گلشن کو تری صحبت از بس کہ خوش آئی ہے
- از بس کہ سکھاتا ہے غم ضبط کے اندازے
- بس کہ لیتا ہوں ہر مہینے قرض
- بس کہ فعال ما یرید ہے آج
- بس اب بگڑے پہ کیا شرمندگی جانے دو ہل جاؤ
- بس کہ گستاخی ارباب جہاں سے ہوں ملول
- ہے ترے حوصلۂ فضل پر از بس کہ یقیں
- بس کہ بخشی ہے فوج کو عزت
- طرہ ہا بس کہ گرفتار صبا ہیں شانہ
- بس کہ یک رنگ ہیں دل کرتی ہے ایجاد نسیم
- دیکھ وہ برق تبسم بس کہ دل بیتاب ہے
- بس کہ تیرے حق میں کہتی ہے زباں
- ناتوائی نے نہ چھوڑا بس کہ پیش از عکس جسم