بزم
92 Misre
- شمع ہوں تو بزم میں جا پاؤں غالبؔ کی طرح
- بہ بزم مے پرستی حسرت تکلیف بے جا ہے
- طلسم آفرینش حلقہ یک بزم ماتم ہے
- اسدؔ بزم تماشا میں تغافل پردہ داری ہے
- لڑاوے گروہ بزم مے کشی میں قہر و شفقت کو
- گربہ بزم باغ کھینچے نقش روے یار کو
- بزم خوباں بس کہ جوش جلوہ سے پر نور ہے
- بزم نظر ہیں بیضۂ طاؤس خلوتاں
- بزم طرب ہے پردگئے سوختن ہنوز
- بزم وداع نظر یاس طرب نامہ بر
- دود شمع کشتۂ گل بزم سامانی عبث
- فرو پیچیدنی ہے فرش بزم عیش گستر کا
- بزم داغ طرب دباغ کشاد پر رنگ
- پہن گشتن ہاے دل بزم نشاط گردباد
- بزم ہے یک پنبۂ مینا گداز ربط سے
- جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا
- رہن خاموشی میں ہے آرایش بزم وصال
- آئیں جس بزم میں وہ لوگ پکار اٹھتے ہیں
- بزم طرب ہے پردگی سوختن ہنوز
- تھا سپند بزم وصل غیر گو بے تاب تھا
- رہا پامال حسرت ہاے فرش بزم گستردن
- شور ہے کس بزم کی عرض جراحت خانہ کا
- یاں نفس کرتا تھا روشن شمع بزم بے خودی
- تھا سپند بزم وصل غیر گو بیتاب تھا
- ہم نشیں مت کہ کہ برہم کر نہ بزم عیش دوست
- رنگ نے گل سے دم عرض پریشانی بزم
- مجمر بزم فسردن دیدہ نخچیر ہے
- باعث ایذا ہے برہم خوردن بزم سرور
- نہیں محسوس دود مشعل بزم سیہ پوشاں
- اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیے
- گریہ نکالے ہے تیری بزم سے مجھ کو
- بزم مے وحشت کدہ ہے کس کی چشم مست کا
- بزم ہستی وہ تماشا ہے کہ جس کو ہم اسدؔ
- حسرت نے لا رکھا تری بزم خیال میں
- گرمیٔ بزم ہے اک رقص شرر ہوتے تک
- بزم شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا
- چمن میں کس کے یہ برہم ہوئی ہے بزم تماشا
- شمع سے ہے بزم انگشت تحیر در دہن
- جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے
- خدایا اس قدر بزم اسدؔ گرم تماشا ہو
- وہ آیا بزم میں دیکھو نہ کہیو پھر کہ غافل تھے
- راہ میں ہم ملیں کہاں بزم میں وہ بلائے کیوں
- کیا شمع کے نہیں ہیں ہوا خواہ بزم میں
- دور چشم بد تری بزم طرب سے واہ واہ
- اس کی بزم آرائیاں سن کر دل رنجور یاں
- مے وہ کیوں بہت پیتے بزم غیر میں یا رب
- شور ہے کس بزم کی عرض جراحت خانہ كا
- صبح یک بزم نمک سود چراغ کشتہ ہے
- یہ بات بزم میں روشن ہوئی زبانی شمع
- یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاں
- یاں نفس کرتا تھا روشن شمع بزم بے خودی
- جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا
- خامہ میرا کہ وہ ہے باربد بزم سخن
- بزم خیال مے کدۂ بے خروش ہے
- یا صبح دم جو دیکھیے آ کر تو بزم میں
- بزم قدح سے عیش تمنا نہ رکھ کہ رنگ
- عزلت گزین بزم ہیں واماندگان دید
- بزم میں اس کے روبرو کیوں نہ خموش بیٹھیے
- میں نے کہا کہ بزم ناز چاہیے غیر سے تہی
- بزم طرب ہے پردگئے سوختن ہنوز
- لاغر اتنا ہوں کہ گر تو بزم میں جا دے مجھے
- جوش قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے
- بہ بزم مے پرستی حسرت تکلیف بیجا ہے
- مجھ تک کب ان کی بزم میں آتا تھا دور جام
- میں اور بزم مے سے یوں تشنہ کام آؤں
- ہم نشیں مت کہہ کہ برہم کر نہ بزم عیش دوست
- رنگ نے گل سے دم عرض پریشانیٔ بزم
- ایک دن گر نہ ہوا بزم میں ساقی نہ سہی
- کہ آج بزم میں کچھ فتنہ و فساد نہیں
- ابر روتا ہے کہ بزم طرب آمادہ کرو
- ہم نے وحشت کدۂ بزم جہاں میں جوں شمع
- گل بہ کوہ از لالہ بزم ساز بیتابی
- برہم ہے بزم غنچہ بہ یک جنبش نشاط
- نور چراغ بزم سے جوش سحر ہے آج
- باعث ایذا ہے برہم خوردن بزم سرور
- ہے بزم بتاں میں سخن آزردہ لبوں سے
- بزم کا التزام گر کیجیے
- ہوا بزم طرب میں رقص ناہید
- شمع بزم سخن سرائی تھے
- رونق بزم مہ مہر تری ذات سے ہے
- بزم شادی ہے فلک کاہ کشاں ہے سہرا
- بزم یاس آں سوے پیدائی و اخفار نگیں
- پر پروانہ مری بزم میں ہے خنجر کیں
- بزم میں میزبان قیصر و جم
- جس بزم میں کہ ہو انھیں آہنگ میکشی
- اس بزم پر فروغ میں اس تیرہ بخت کو
- بزم گہ میں امیر شاہ نشاں
- دہر میں اس طرح کی بزم سرور
- بزم آئینہ تصویر نما مشت غبار
- بزم سلطانی ہوئی آراستہ
- در بزم وفا خجل نشینی ہے مجھے
- بعد از اتمام بزم عید اطفال