برق
59 Misre
- پر طاؤس گویا برق ابر چشم گریاں ہے
- جنون برق نشتر ہے رگ ابر بہاری کا
- برق سامان نظر ہے جلوۂ بے باک حسن
- برق سے کرتے ہیں روشن شمع ماتم خانہ ہم
- بہ وہم زر گرہ میں باندھتے ہیں برق حاصل ہا
- برق بہار سے ہوں میں پادر حنا ہنوز
- اسدؔ کو پیچ تاب طبع برق آہنگ مسکن سے
- کہ وجد برق جوں پروانہ بال افشاں ہے خرمن پر
- ہجوم برق سے چرخ و زمیں یک قطرۂ خوں ہے
- ہواے پر فشانی برق خرمن ہاے خاطر ہے
- نہیں برق و شرر جز وحشت و ضبط تپیدن ہا
- ہم اک طرف ہیں برق شرر بیزیک طرف
- برق بجان حوصلہ آتش فگن اسدؔ
- عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا
- نگاہ عبرت افسوں گاہ برق و گاہ مشعل ہے
- رنگ روے شمع برق خرمن پروانہ تھا
- برق آبیار فرصت رنگ دمیدہ ہوں
- شب کہ برق سوز دل سے زہرۂ ابر آب تھا
- گرمیٔ برق تپش سے زہرٔ دل آب تھا
- ناکامی نگاہ ہے برق نظارہ سوز
- جوں برق ہے پیچیدگی بند قبا گرم
- درس تپش ہے برق کو اب جس کے نام سے
- حیرت نگاہ برق تماشا بہار شوخ
- انجمن بے شمع ہے گر برق خرمن میں نہیں
- برق خرمن زار گوہر ہے نگاہ تیز یاں
- درس تپش ہے برق کو اب جس کے نام سے
- برق کو پابہ حنا باندھتے ہیں
- ناکامی نگاہ ہے برق نظارہ سوز
- خرام ناز برق خرمن سعیٔ سپند آیا
- کہ وجد برق جوں پروانہ بال افشاں ہے خرمن پر
- اس سال کے حساب کو برق آفتاب ہے
- نظارہ کیا حریف ہو اس برق حسن کا
- ہیولیٰ برق خرمن کا ہے خون گرم دہقاں کا
- عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا
- شب کہ برق سوز دل سے زہرۂ ابر آب تھا
- عمر ہرچند کہ ہے برق خرام
- برق سے کرتے ہیں روشن شمع ماتم خانہ ہم
- سمجھتا ہوں کہ ڈھونڈے ہے ابھی سے برق خرمن کو
- جنون برق نشتر ہے رگ ابر بہاری کا
- ہوائے پر فشانی برق خرمن ہائے خاطر ہے
- نہیں برق و شرر جز وحشت ضبط تپیدن ہا
- برق ہنستی ہے کہ فرصت کوئی دم ہے ہم کو
- برق خرمن راحت خون گرم دہقاں ہے
- گرنی تھی ہم پہ برق تجلی نہ طور پر
- نکلتی ہے تپش میں بسملوں کی برق کی شوخی
- نہ شعلہ میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ ادا
- برق بجان حوصلہ آتش فگن اسدؔ
- جس کی صدا ہو جلوۂ برق فنا مجھے
- گرتا نہیں اس رو سے کہو برق نہیں ہے
- جلوۂ برق سے ہوجائے نگہ عکس پذیر
- برق کو دے رہا ہے کیا الزام
- شعلہ تحریر سے اس برق کی ہے کلک قضا
- نرم رفتار ہو جس کوہ پہ وہ برق گداز
- خون صد برق سے باندھے بکف دست نگار
- رشک نظارہ تھی یک برق تجلی کہ ہنوز
- دیکھ وہ برق تبسم بس کہ دل بیتاب ہے
- جو ہو جاوے نثار برق مشت خار و خس بہتر
- ابر بدلی اور بجلی برق ہے
- ہو تجلی برق کی صورت میں ہے یہ بھی غضب