بر
73 Misre
- ہے بر سر مژہ نگراں دیدبان اشک
- تاثیر جستن اشک سے نقش بر آب ہے
- تماشا ہے کہ رنگ رفتہ بر گر دیدنی جانے
- یک در بر روے رحمت بستہ دور شش جہت
- کہ جام بادہ کف بر لب بتقریب تقاضا ہے
- بہم آوردہ مژگاں روے بر روے تماشا ہے
- اے جان بر لب آمدہ بے تاب ہو گئی
- اے چرخ خاک بر سر تعمیر کائنات
- بر ہوس ہاے جہاں دامن فشانی مفت ہے
- بزم وداع نظر یاس طرب نامہ بر
- تکلف بر طرف مل جائے گا تجھ سا رقیب آخر
- گیا جو نامہ بر واں سے برنگ باختہ آیا
- ہے مگر موقوف بر وقت دگر کار اسدؔ
- شرح بر خود غلطی ہاے تحمل تا چند
- ہوا جب حسن کم خط بر عذار سادہ آتا ہے
- تکلف بر طرف تجھ سے تری تصویر بہتر ہے
- کاشانۂ ہستی کہ بر انداختنی ہے
- غنچگی ہے بر نفس پیچیدن فکر اے اسدؔ
- مگر وہ خانہ بر انداز گفتگو جانے
- سر شک بر زمیں افتادہ آسا
- بہ بند گریہ نقش بر آب اندیشہ رستن کا
- قطرۂ اشک دل بر صف مژگاں زدہ ہے
- محمل پیمانۂ فرصت ہے بر دوش حباب
- نمک بر داغ مشک آلودۂ وحشت تماشا ہے
- اسدؔ ہر اشک ہے یک حلقہ بر زنجیر افزودن
- بہ بند گریہ ہے نقش بر آب امید رستن ہا
- بر خاک اوفتادگی کشتگان عشق
- بجاے زخم گل بر گوشۂ دستار ہو پیدا
- داد خواہ تپش و مہر خموشی بر لب
- مردمک سے ہے خال بر لب گور
- تا چند نفس غفلت ہستی سے بر آوے
- مطلب نہیں کچھ اس سے کہ مطلب ہی بر آوے
- اثر موقوف بر عمر دگر ہے
- مہر بجاے نامہ لگائی بر لب پیک نامہ رساں
- وہ فلک رتبہ کہ بر تو سن چالاک چڑھا
- وصل بر رنگ تپش کسوت رسوائی ہے
- ہے کلاہ ناز گل بر طاق دیوار چمن
- نامہ لاتا ہے وطن سے نامہ بر اکثر کھلا
- تکلف بر طرف تھا ایک انداز جنوں وہ بھی
- میرا سلام کہیو اگر نامہ بر ملے
- دل بے دست و پا افتادہ بر خوردار بستر ہے
- سر بر ہوئی نہ وعدۂ صبر آزما سے عمر
- ہو لیے کیوں نامہ بر کے ساتھ ساتھ
- ہے نامہ بر کو اس سے دعوائے ہم کلامی
- پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہ بر کو میں
- ہوا رقیب تو ہو نامہ بر ہے کیا کہئے
- تکلف بر طرف مل جائے گا تجھ سا رقیب آخر
- برنگ لالہ جام بادہ بر محل پسند آیا
- تغیر آب بر جا ماندہ کا پاتا ہے رنگ آخر
- کہ اس کے در پہ پہنچتے ہیں نامہ بر سے ہم آگے
- سخن ہوں سخن بر لب آوردگاں کا
- حنائے پنجۂ صیاد مرغ رشتہ بر پا ہے
- کہ جام بادہ کف بر لب بہ تکلیف تقاضا ہے
- ہر چند بر سبیل شکایت ہی کیوں نہ ہو
- تکلف بر طرف نظارگی میں بھی سہی لیکن
- کوئی امید بر نہیں آتی
- دے کے خط منہ دیکھتا ہے نامہ بر
- تکلف بر طرف آئینۂ تمئیز حائل ہے
- تکلف بر طرف ہے جاں ستاں تر لطف بد خویاں
- تکلف بر طرف ذوق زلیخا جمع کر ورنہ
- مطلب نہیں کچھ اس سے کہ مطلب ہی بر آوے
- کیا پوچھے ہے بر خود غلطیہائے عزیزاں
- کبھی صبا کو کبھی نامہ بر کو دیکھتے ہیں
- توڑے ہے عجز تنک حوصلہ بر روے زمیں
- قرب ہر روزہ بر سبیل دوام
- سلطان بر و بحر کے در کا ہوں میں غلام
- چشم بر چشم چنے ہے بہ تماشا مجنوں
- ہوں درد ہلاک نامہ بر سے بیمار
- نو بر نخل باغ سلطاں ہو
- دم واپسیں بر سر راہ ہے
- نقش سطر صد تبسم ہے بر آب زیر کاہ
- واہ کیا خوب بر محل پہنچا
- نامہ بر جلدی میں تیری وہ جو تھی مطلب کی بات